بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 199

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے جنگ جمل میں شہید ہونے والوں کے مقام کے بارہ میں ، عورت کی آدھی گواہی تصور کر کے حضرت عائشہؓ سے مروی احادیث کے مقام کے بارہ میں، نیز محنت کی وراثت اور گواہی کے بارہ میں مسائل دریافت کئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 جنوری 2020ء میں ان سوالات کے درج ذیل جوابات عطا فرمائے۔حضور نے فرمایا: جواب: جنگ جمل کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی ساری کارروائی کے پیچھے ان مفسدوں اور شریر لوگوں کا ہاتھ تھا جنہوں نے حضرت عثمان کو قتل کرنے کے بعد مدینہ پر قبضہ کر لیا تھا۔اور یہ جنگ بھی انہیں مفسدوں نے دو مسلمان گروہوں میں غلط فہمیاں پیدا کر کے اور کئی شرارتوں کو خود شروع کر کے بھڑکائی تھی۔اُس زمانہ کی تاریخ اور ہمارے اس زمانہ کے درمیان صدیوں کے پر دے، بہت سی مشتبہ باتیں اور روایتیں حائل ہیں نیز کئی قسم کے شبہات جان بوجھ کر بھی اس میں داخل کئے گئے ہیں۔لیکن دائمی حقیقت وہی ہے جسے قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ رسول ﷺ اور حسن عمل کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں کے بارہ میں رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ جیسے قابل رشک الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔اور بعد میں آنے والوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ ان لوگوں کے بارہ میں یہ دعا کرتے ہیں کہ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا (الحشر: 11) یعنی اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم پر سبقت لے گئے اور ہمارے دلوں میں اُن لوگوں کے لئے جو ایمان لائے کوئی کینہ نہ رہنے دے۔پس ان شواہد کی موجودگی میں ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس جنگ میں منافقین کے شر اور دھو کہ کا شکار ہو کر دونوں طرف سے شہید ہونے والے یقیناً معصوم لوگ تھے۔جن کے بارہ میں ہمیں کوئی اختیار نہیں کہ ہم حکم بن کر ان کے بارہ میں کوئی فتویٰ جاری کریں کہ ان کا کیا مقام ہے۔عورت کی گواہی کے متعلق یہ تصور درست نہیں کہ اس کی گواہی آدھی ہے۔ایسے امور جن کا 199