بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 182

نے جن اقوام پر فتح پائی تھی ان میں سے بعض نہایت محنتی اور جفاکش اقوام تھیں لیکن اس کے ساتھ ان میں اسی قسم کی ناری صفات اور بغاوت و سرکشی کا مادہ بھی پایا جاتا تھا۔اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہا السلام نے اپنی خداداد حکمت اور دانائی کے ساتھ ان اقوام کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنالیا تھا۔اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کی مملکت کے مختلف کاموں کو سر انجام دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کئی اقوام کو آپ کے تابع فرمان کر دیا تھا جن کے لئے قرآن کریم نے مختلف الفاظ استعمال کئے ہیں۔چنانچہ سورۃ سبا کی آیت 13 تا 15 میں ایسے لوگوں کے لئے جن کا لفظ آیا ہے۔جبکہ سورۃ ص آیات 38 ، 39 اور سورۃ الانبیاء آیت 83 میں ان کے لئے شیاطین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اور اصل میں ان سے مراد وہ شریر اور مفسد اقوام تھیں جنہیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی بدولت مغلوب کر کے اپنی سلطنت کے مختلف کاموں کو سر انجام دینے کے لئے مامور کر دیا تھا۔عفریت بھی اسی قسم کی ایک قوم کے سرداروں میں سے تھا، جسے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت میں بھی اعلیٰ رتبہ حاصل تھا۔حدیث میں بھی عفریت کا لفظ آیا ہے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور ا ہم نے فرمایا کہ گزشتہ رات جنوں میں سے ایک عفریت (یعنی گھناؤنی شکل کا جنگلی وحشی آدمی) مجھ پر ٹوٹ پڑا تاکہ میری نماز کو توڑ دے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دید یا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دوں تا کہ تم سب اسے دیکھو۔پھر مجھے میرے بھائی سلیمان کا قول یاد آیا کہ اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا کر جو میرے بعد کسی کو بھی سزاوار نہ ہو۔پس میں نے اسے دھتکار کر بھگا دیا۔امام بخاری کہتے ہیں کہ عفریت کے معنی سرکش کے ہیں خواہ انسان ہو یا جن۔(صحیح بخاري كتاب احاديث الانبياء بَاب قَوْلِ اللهِ تَعَالَي وَوَهَبْنَا لِدَاوُدَ سُلَيْمَانٍ۔۔۔) یہ واقعہ بخاری میں بعض اور جگہوں پر بھی بیان ہوا ہے۔کتاب الصلاۃ کی روایت میں حضور کی نماز میں خلل پیدا کرنے والے اس شخص کے لئے عفریت ہی کا لفظ آیا لیکن کتاب الجمعـه بَاب مَا يَجُوزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ میں بیان روایت میں حضور اللی تم نے اس 182