بنیادی مسائل کے جوابات — Page 181
سوال: اردن سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں یہ استفسار بھجوائے کہ کیا نظروں سے اوجھل ہر چیز جن ہوتی ہے اور کیا ابلیس اور فرشتے بھی جن ہو سکتے ہیں ؟ کیا احمدی عفریت کے وجود پر یقین رکھتے ہیں ؟ ہم نے پڑھا ہے کہ آنے والے مهدی آخری زمانہ میں ظاہر ہوں گے ، کیا ہم واقعی آخری زمانہ میں رہ رہے ہیں ؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ کی یا حضرت محمدام یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قسم کھا سکتے ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 فروری 2022ء میں ان سوالات کے درج ذیل جوابات عطا فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اکتوبر 2021ء میں میں نے آپ کے خط کے جواب میں جنوں کے بارہ میں جو جواب بھجوایا تھا، اس میں آپ کے ان پہلے دونوں سوالوں کا جواب بھی موجود ہے، وہاں سے پڑھ لیں۔( حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ جواب اسی ” “ کی قسط نمبر 46 کے تحت الفضل اور الحکم میں شائع ہو چکا ہے۔ناقل ) باقی عفریت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کا وہی عقیدہ ہے جو قرآن و حدیث نے ہمیں بتایا ہے۔چنانچہ سورۃ النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِ أنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ (سورة النمل: 40) یعنی ( پہاڑی قوموں میں سے ایک سرکش سردار نے کہا۔آپ کے (اس) مقام سے جانے سے پہلے میں وہ (عرش) لے آؤں گا اور میں اس بات پر بڑی قدرت رکھنے والا (اور ) امانت دار ہوں۔جن کا لفظ جیسا کہ میں نے اپنے پہلے خط میں وضاحت کی تھی کہ بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس انسان کو بھی جن کہہ دیا جاتا ہے جس میں ناری صفات اور بغاوت کی روح پائی جاتی ہو۔جو آتشیں مزاج رکھتا ہو، جسے جلدی غصہ آتا ہو۔پس لڑاکے ، فسادی ، بغاوت کرنے والے اور سرکش قسم کے لوگوں کو بھی جن کہا جاتا ہے۔حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام 181