بنیادی مسائل کے جوابات — Page 183
کے لئے شیطان کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔واقعہ ایک کشفی نظارہ بھی ہو سکتا ہے جس کا تعلق مستقبل میں پیش آنے والے واقعات سے تھا کہ ناری صفات، باغیانہ سوچ کے شریر اور مفسد شیطان خصلت انسان حضور ا کو آپ کے فرض منصبی سے روکنے کے لئے جنگ کی صورت میں عداوت کی آگ بھڑ کانے کی کوشش کریں گے اور سرکش اور اُجڈ قبائل کو آپ کے خلاف اکسائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ ان شریروں کو آپ کے قابو میں دیدے گا اور وہ اپنے اس حملہ سے ذلیل و خوار ہو کر نامراد لوٹیں گے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ پھر ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے حضور ام کی زندگی میں ہی آپ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرماتے ہوئے ان عفریت خصلت دشمنوں پر آپ کو پورا پورا تسلّط عطا فرمایا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے الہی مشیئت کے تحت مغلوب اقوام کو غلام بنایا جو آخر دم تک حضرت سلیمان کی غلامی میں رہیں۔لیکن حضور الم کی ذات بابرکات جو بنی نوع انسان کے لئے سر ا پار حمت و شفقت تھی اور جیسا کہ اس واقعہ کے آخری حصہ سے بھی ظاہر ہوتا ہے، آپ نے غلاموں کے آزاد کرنے کی تعلیم دی اور پھر آپ اور آپ کے صحابہ نے لاکھوں غلاموں کو آزاد کیا۔اگر اس واقعہ کو ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک گھناؤنی اور مکر وہ شکل کے خبیث، جنگلی اور وحشی خصلت شخص یا جانور نے رات کے وقت حضور ا م پر حملہ کیا جبکہ آپ نماز ادا کر رہے تھے، جس سے آپ کی نماز میں خلل پیدا ہوا۔چنانچہ آپ نے اس انسان یا جانور کو قابو کر لیا اور اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ کیا لیکن پھر آپ نے اپنی فطری اور جبلی رحمت و شفقت کے تحت اسے آزاد کر دیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ النمل کی تفسیر میں لفظ عفریت کی لغوی بحث میں لکھتے ہیں۔عفریت کے معنے ہیں کسی کام کو کر گزرنے والا۔بُرا اور ناپسندیدہ (اقرب)۔پھر اس آیت کی تفسیر میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا کا واقعہ بیان کرتے ہوئے عفریت کے بارہ میں لکھتے ہیں: ”حضرت سلیمان علیہ السلام نے سوچا کہ ہدہد کے اس لائے ہوئے تحفہ سے تو کچھ نہیں بنتا۔کوئی اور چیز منگواؤ۔اور فرمایا۔اے میرے سر دارو 183