بنیادی مسائل کے جوابات — Page 78
ملازمتیں بھی ہو سکتی ہیں جن کا ایسی باتوں سے تعلق نہ ہو اور خدا تعالیٰ سے استغفار کرتے رہنا چاہیئے۔اخبار بدر نمبر 39 ، جلد 6 ، مورخہ 26 ستمبر 1907ء صفحہ 6) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بینک کی ملازمت کے بارہ میں فرماتے ہیں: جس ملازمت میں سود لینے یا اس کی تحریک کرنے کا کام کرنا پڑتا ہو وہ میرے نزدیک جائز نہیں۔ہاں ایسے بینک کے حساب و کتاب کی ملازمت جائز ہے۔(اخبار الفضل قادیان دارالامان نمبر 95 ، جلد 3، مؤرخہ 7 مارچ 1916ء صفحہ 9) پھر ایک اور موقع پر فرمایا: جس ملازمت میں سود کی تحریک کرنی پڑے وہ ناجائز ہے۔کلر کی اور حساب رکھنا بہ تسلسل ملازمت جائز ہے۔“ اخبار الفضل قادیان دار الامان نمبر 113، جلد 3، مورخہ 13 مئی 1916ء صفحہ 8) پس انسان کو وہموں اور شک و شبہ میں مبتلا ہوئے بغیر تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اپنے معاملات اور دنیاوی امور کو بجالانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور جہاں براہ راست کسی ممنوع کام میں پڑنے کا امکان ہو یا کسی چیز کی حرمت واضح طور پر نظر آتی ہو اس سے بہر صورت اجتناب کرنا چاہیے۔لیکن بہت زیادہ وہموں میں پڑ کر جائز اشیاء کے استعمال سے بلا وجہ کنارہ کشی اختیار نہیں کرنی چاہیئے۔(قسط نمبر 45، الفضل انٹر نیشنل 16 دسمبر 2022ء صفحہ 11) 78