بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 9

بِمَصَابِيعَ وَحِفْظًا سے ، یعنی حِفْظ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔یعنی نظام دنیا کی محافظت میں ان ستاروں کو دخل ہے اُسی قسم کا دخل جیسا کہ انسانی صحت میں دوا اور غذا کو ہوتا ہے جس کو الوہیت کے اقتدار میں کچھ دخل نہیں بلکہ جبروت ایزدی کے آگے یہ تمام چیزیں بطور مردہ ہیں۔یہ چیزیں بجز اذن الہی کچھ نہیں کر سکتیں۔ان کی تاثیرات خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔پس واقعی اور صحیح امر یہی ہے کہ ستاروں میں تاثیرات ہیں جن کا زمین پر اثر ہوتا ہے۔لہذا اس انسان سے زیادہ تر کوئی دنیا میں جاہل نہیں کہ جو بنفشہ اور نیلوفر اور تربد اور سقمونیا اور خیار شنبر کی تاثیرات کا تو قائل ہے مگر اُن ستاروں کی تاثیرات کا منکر ہے جو قدرت کے ہاتھ کے اوّل درجہ پر تجلی گاہ اور مظہر العجائب ہیں جن کی نسبت خود خدا تعالیٰ نے حفظ کا لفظ استعمال کیا ہے۔یہ لوگ جو سراپا جہالت میں غرق ہیں اس علمی سلسلہ کو شرک میں داخل کرتے ہیں۔نہیں جانتے جو دنیا میں خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت یہی ہے جو کوئی چیز اس نے لغو اور بے فائدہ اور بے تاثیر پیدا نہیں کی جبکہ وہ فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے تو اب بتلاؤ کہ سَمَاءُ الدُّنْیا کو لاکھوں ستاروں سے پر کر دینا انسان کو اس سے کیا فائدہ ہے ؟ اور خدا کا یہ کہنا کہ یہ سب چیزیں انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں ضرور ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ان چیزوں کے اندر خاص وہ تاثیرات ہیں جو انسانی زندگی اور انسانی تمدن پر اپنا اثر ڈالتی ہیں۔جیسا کہ متقدمین حکماء نے لکھا ہے کہ زمین ابتدا میں بہت ناہموار تھی خدا نے ستاروں کی تاثیرات کے ساتھ اس کو درست کیا ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 282،283 حاشیہ) پس مذکورہ بالا حوالہ جات سے مستنبط ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں جو چاند، سورج، سیارے اور ستارے نیز بروج کے نام پر ان کی مختلف منزلیں اور مقام بنائے ہیں، یہ بلا مقصد نہیں ہیں۔بلکہ جہاں ان اجرام فلکی کی حرکات و سکنات کے نتیجہ میں ہماری زمین پر دن رات ادلتے 9