بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 8

کوئی چیز بے فائدہ پیدا نہیں کی ، تاثیرات ہیں۔۔۔اور حق یہ ہے کہ سورج، چاند اور ستاروں کی تاثیرات ایسی چیزیں ہیں جنہیں مخلوق ہر وقت اور ہر آن دیکھتی ہے اور ان سے انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔مثلاً موسموں اور ان کی حالتوں کا اختلاف اور ہر موسم کا مخصوص امراض، معروف نباتات اور مشہور کیڑے مکوڑوں کے ساتھ خاص ہونا ایسی چیز ہے جسے تو جانتا ہے۔۔۔اور تُو جانتا ہے کہ جب سورج طلوع ہو اور روشنیاں پھیلیں تو بلا شبہ اس وقت نباتات، جمادات اور حیوانات میں خاص اثر ہوتا ہے۔پھر جب دن ڈھلنے اور غروب ہونے کے قریب ہو تو اس وقت میں اور طرح کی تاثیرات ہیں۔حاصل کلام یہ کہ سورج کے بعد اور اس کے مقرب کا درختوں، پھلوں، پتھروں اور بنی آدم کے مزاجوں میں نمایاں اثر اور قوی تاثیرات ہوتی ہیں۔۔۔اور چاند کی کتنی خاصیتیں ہیں جنہیں دہقان اور زراعت پیشہ لوگ جانتے ہیں۔۔۔اور حکماء اس بات پر متفق ہیں کہ لوگوں کی سب سے زیادہ معتدل صنف خط استواء میں رہنے والے لوگ ہیں اور خاص تاثیر ہی ان کی صحت کامل اور ان کے فہم اور فراست کی برتری کا سبب ہے۔(حمامة البشرکی، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 285 تا 288) آسمانی برجوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ر حمن وہ ذات کثیر البرکت اور مصدر خیرات دائمی ہے جس نے آسمان میں برج بنائے۔برجوں میں آفتاب اور چاند کو رکھا جو کہ عامہ مخلوقات کو بغیر تفریق کا فرو مومن کے روشنی پہنچاتے ہیں۔“ براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 448 حاشیہ نمبر 11) پھر ان اجرام فلکی کی تاثیرات کے بارہ میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: دو یہ ستارے فقط زینت کے لئے نہیں ہیں جیسا عوام خیال کرتے ہیں بلکہ ان میں تاثیرات ہیں۔جیسا کہ آیت وَ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا 8