بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 580 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 580

سوال : سنت اور نفل نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعات میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھنے کے بارہ میں ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رہنمائی چاہی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 مارچ 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی: جواب: احادیث میں جس طرح فرض نمازوں کی صرف پہلی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھنے کی بابت صراحت پائی جاتی ہے۔اس طرح کتب احادیث خصوصاً صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کہیں یہ وضاحت نہیں ملتی کہ سنت اور نفل نمازوں کی چاروں رکعات میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ قرآن کا کچھ حصہ ضرور پڑھا جائے۔فقہاء کا بھی اس بارہ میں اختلاف ہے۔چنانچہ مالکی اور حنبلی مسالک والے سنت اور نفل نمازوں کی تمام رکعات میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں جبکہ حنفی اور شافعی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کوئی حصہ نہیں پڑھتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جیسا کہ آپ نے بھی اپنے خط میں ذکر کیا ہے اس معاملہ میں فرض اور سنت نماز میں کوئی فرق نہیں۔جس طرح فرض نمازوں کی صرف پہلی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھا جاتا ہے اسی طرح سنت اور نفل نمازوں کی بھی صرف پہلی دورکعات میں ہی سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھا جائے گا اور تیسری اور چوتھی رکعات میں صرف سورۃ فاتحہ پر ہی اکتفاء کیا جائے گا۔اور یہی میرا موقف ہے۔(قسط نمبر 33، الفضل انٹر نیشنل 06 مئی 2022ء صفحہ 9) 580