بنیادی مسائل کے جوابات — Page 579
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جانے والی پیش خبری کے مطابق جب پنجاب میں طاعون پھیلی تو حضور علیہ السلام نے آنحضور الم کی اسی سنت کی اتباع میں فرمایا کہ : نیز فرمایا کہ: آجکل چونکہ وبا کا زور ہے اس لئے نمازوں میں قنوت پڑھنا چاہیئے۔“ ( البدر نمبر 15، جلد 2، مؤرخہ یکم مئی 1903ء صفحہ 115) چاہیے کہ ہر ایک شخص تہجد میں اٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملاویں۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 192۔مطبوعہ 2016ء) علاوہ ازیں حضور علیہ السلام نے قنوت میں پڑھی جانے والی دعاؤں کے متعلق بھی رہنمائی فرماتے ہوئے ہدایت دی کہ اس میں ادعیہ ماثورہ جو قرآن و حدیث میں آئی ہیں وہ ہی پڑھی جائیں۔(اخبار بدر نمبر 31، جلد 6، مؤرخہ یکم اگست 1907ء صفحہ 12) قنوت کے بارہ میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ایک تو اسے مختلف نمازوں میں پڑھنا مسنون ہے، فرض نہیں۔اس لئے اسے پڑھنا لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔نیز احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں قنوت کے نمازوں میں پڑھنے کی روایات تو ملتی ہیں لیکن نماز جمعہ میں پڑھنے کی کوئی روایت کہیں نہیں ملتی۔اس لئے ایسی نیکیوں کو جن میں دوسرے لوگ بھی شامل ہو رہے ہوں اسی حد تک بجالانا چاہیئے جس حد تک شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔تاکہ کسی کو بھی تکلیف مالا يطاق کا سامنانہ کرنا پڑے۔(قسط نمبر 32، الفضل انٹر نیشنل 22 اپریل 2022ء صفحہ 11) 579