بنیادی مسائل کے جوابات — Page 581
نماز با جماعت سوال : ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے صحیح بخاری کی شرح میں عورتوں کے بھی مردوں کی طرح نماز باجماعت کے لئے مسجد میں آنے کو فرض قرار دیا ہے۔حضور بھی خواتین کو اس طرف توجہ دلائیں۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 نومبر 2018ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے اپنی اس شرح میں سورۃ الاحزاب کی آیت وَ أَقِمْنَ الصَّلاةَ سے عورتوں کے لئے مسجد میں آکر نماز باجماعت ادا کرنے کا جو استدلال کیا ہے وہ ان کی ذوقی تشریح ہے جو اسلام کے چودہ سو سالہ تعامل، احادیث نبویہ الم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت کی تشریحات کے خلاف ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے قیام نماز کی مختلف تشریحات بیان فرمائی ہیں جن میں مسجد میں پانچ وقت حاضر ہو کر نماز باجماعت ادا کرنا بھی شامل ہے لیکن یہ تشریح صرف مردوں کے لئے ہے۔عورتوں کے لئے قیام نماز کا مطلب اپنے گھروں میں وقت مقررہ پر پانچ نمازوں کو کامل شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے۔لیکن اگر کوئی خاتون مسجد میں آکر ان نمازوں کی ادائیگی کرنا چاہے تو اسلام نے اسے منع بھی نہیں کیا جیسا کہ عہد نبوی الم میں خواتین مساجد میں آکر نمازیں ادا کیا کرتی تھیں۔لیکن حضور اللہ تم نے خواتین کے لئے زیادہ یہی پسند فرمایا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ان نمازوں کی ادائیگی کریں۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ حضور لم نے فرمایا: صَلاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا۔(سنن ابي داؤد كتاب الصلاة) 581