بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 515 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 515

مفتی سلسلہ احمدیہ (حضرت ملک سیف الرحمن) کے نزدیک بھی حکومت نے جو بچت کی سکیمیں جاری کی ہوئی ہیں ان میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔جیسا کہ انہوں نے تحریر کیا ہے۔اگر کوئی چاہے تو حکومت نے بچت کی جو اسکیمیں جاری کی ہوئی ہیں ان میں حصہ لے سکتا ہے اور ان میں جو منافع ملتا ہے اسے اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔“ علاوہ ازیں پاکستان میں اس وقت کوئی متبادل نظام یا محفوظ ادارے موجود نہیں۔جن میں اطمینان کے ساتھ سرمایہ لگایا جاسکے۔جہاں سرمایہ محفوظ ہو، نفع بخش ہو یا نفع بخش نہیں تو کم از کم وقت گزرنے کے ساتھ روپیہ کی قیمت میں آنے والی کمی سے سرمایہ متاثر نہ ہو۔(اس لئے بینکوں میں روپیہ جمع کرانے کی بجائے جہاں روپیہ ہی کے لین دین کا واضح سودی کاروبار ہوتا ہے، ان سکیموں میں روپیہ لگایا گیا ہے، جن میں سرمایہ کو رفاہی تعمیری کاموں پر خرچ کرنے کی وجہ سے حکومت سود سے پاک قرار دیتی ہے۔یا کم از کم وہ بینکوں کی نسبت یقینی سودی کاروبار نہیں کرتیں) ایک ممکنہ شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جماعت اپنے سرمایہ سے خود ایسے کاروباری منصوبے جاری کرے جو یقینی طور پر سود کی آلائش سے پاک ہوں۔مگر ملک کی موجودہ فضا جس میں سے جماعت گزر رہی ہے ، ایسی سرمایہ کاری کے لئے سر دست موافق نہیں۔اس طرح گویا قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری ایک اضطرار کا رنگ رکھتی ہے۔جس کے برعکس کوئی متبادل نظام سرمایہ کاری کا ملک میں موجود نہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی ان سفارشات کو 13 اگست 1987ء کو منظور کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔”ٹھیک ہے۔“ (قسط نمبر 4، الفضل انٹر نیشنل 18 دسمبر 2020ء صفحہ 12) 515