بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 516 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 516

سوال : ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں پاکستان کے بینکوں میں جمع کرائی جانے والے رقم پر ملنے والے منافع کو اپنے ذاتی استعمال میں لانے کی بابت مسئلہ دریافت کیا ہے۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 نومبر 2018ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: پاکستان کے بینک عموماً PLS یعنی نفع نقصان میں شراکت کے طریق کار کے تحت رقوم جمع کرتے ہیں۔اس سسٹم کے تحت جمع کرائی جانے والی رقوم پر ملنے والی زائد رقم سود کے زمرہ میں نہیں آتی۔اسی طرح حکومتی بینکوں میں جمع کروائی جانے والی رقوم پر ملنے والی زائد رقم بھی سود شمار نہیں ہوتی۔کیونکہ حکومتی بینک اپنے سرمایہ کو رفاہی کاموں پر لگاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ملکی باشندوں کی سہولتوں کے لئے مختلف منصوبے بنائے جاتے ہیں، معیشت میں ترقی ہوتی ہے اور افراد ملک کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے ایسے بینکوں سے ملنے والے منافع کو ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔جہاں تک سود کا تعلق ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی یہ تعریف فرمائی ہے کہ ایک شخص اپنے فائدہ کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلائے گا۔اسلام نے جس سود سے منع فرمایا ہے اس میں غربا کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں قرض دیتے وقت اس پر پہلے سے سود کی ایک رقم معین کر لی جاتی تھی اور غریب اس سود در سود کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا تھا اور یہ قرض اور سود کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔جبکہ موجودہ زمانہ میں اگر کوئی قرض کی ہوئی رقم واپس کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور اس کا دیوالیہ نکل جائے تو Bankruptcy کے تحت وہ قرض ختم بھی ہو جاتا ہے۔اسی لئے اس زمانہ کے حکم و عدل سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”اب اس ملک میں اکثر مسائل زیر و زبر ہو گئے ہیں۔گل تجار توں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود 516