بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 514 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 514

منافع کی رقم سوال : حکومتی بینکوں میں رقم جمع کروانے اور اس رقم پر ملنے والے منافع کو ذاتی استعمال میں لانے کے بارہ میں محترم ناظم صاحب دار الافتاء ربوہ کے ایک استفسار پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 12 نومبر 2017ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اس مسئلہ پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے عہد خلافت میں جو فیصلہ ہوا تھا، میرا موقف بھی اسی کے مطابق ہے۔نوٹ از ناقل :۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے عہد خلافت میں اس مسئلہ پر ہونے والا فیصلہ درج ذیل ہے: حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کے عہد خلافت میں صدر مدر انجمن احمدیہ پاکستان کی طرف سے اس مسئلہ پر درج ذیل سفارشات حضور کی خدمت اقدس میں پیش کی گئیں : صدر انجمن احمد یہ بینکوں میں جمع شدہ رقوم پر کسی قسم کا سود نہیں لے رہی۔اور نہ ہی P۔F کی رقم ایسے بینکوں میں جمع کرائی جارہی ہے جن کا کاروبار یا ذریعہ آمدنی سود پر مبنی ہو۔بلکہ حکومت کی قومی بچت کی سکیموں کے تحت قومی ادارہ میں لگائی گئی ہیں۔یہ ادارہ اپنے سرمایہ کو قومی رفاہی کاموں میں لگاتا ہے (نہ کہ سودی کاروبار پر) اس کے نتیجہ میں معیشت میں ترقی ہوتی ہے اور روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔جو حکومت کے Revenue میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔اس طرح حکومت اپنے Depositor کو بھی اپنے منافع میں شریک کر لیتی ہے، جسے حکومت منافع کا نام دیتی ہے۔جب Depositor کو اپنی رقوم کی ضرورت ہوتی ہے، وہ رقم واپس بھی لے لیتا ہے۔بینک اور قومی بچت سکیموں کے اس فرق کی بناء پر ہی سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اس قومی ادارہ میں P۔F کی رقم لگائی گئی ہے۔اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت سے بلال فنڈ اور تزکیہ اموال فنڈ کی رقوم بچت سکیموں میں لگائی گئی ہیں۔514