بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 503

پارلیمانی نظام میں مردوں کے برابر عورتیں موجود ہوں۔انہیں مغربی ممالک میں بیسیوں جگہوں پر کسی ملازمت کے لئے جو پیکیج ایک مرد کو دیا جاتا ہے وہ عموماً اسی ملازمت کے لئے عورت کو نہیں دیا جاتا۔اور یہ ساری باتیں عورت کی سادگی کی شاہد ناطق ہیں۔جہاں تک قرآن کریم کے مرد کو قوام قرار دینے کی بات ہے تو خود قرآن کریم نے اس کی وجوہات بھی بیان فرمائی ہیں۔ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ گھر یلو نظام چلانے کے لئے ایک فریق کو دوسرے پر کسی قدر فضیلت دی گئی ہے اور دوسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے اموال عورت پر خرچ کرتا ہے۔ایک فریق کو دوسرے پر فضیلت کی وجہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے کیونکہ اگر ہم دنیا کے نظام پر نظر ڈالیں تو ہر جگہ ایک فریق اوپر اور ایک نسبتا نیچے ہوتا ہے۔اگر دنیا میں سب لوگ برابر ہوتے یا یوں کہیں کہ اگر سب لوگ بادشاہ بن جاتے تو دنیا ایک دن بھی نہ چل سکتی اس لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو بڑا اور کچھ کو چھوٹا، کچھ کو امیر اور کچھ کو غریب بنایا۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہر ملک میں نظام حکومت کو چلانے کے لئے ایک کابینہ ہوتی ہے اگر اس ملک کے سارے لوگ ہی کا بینہ کا حصہ بن جائیں تو وہ ملک چل ہی نہیں سکتا۔بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے گھریلو نظام کو چلانے کے لئے مرد کو نسبتاً زیادہ اختیارات دیئے لیکن جس طرح ایک سربراہ حکومت اور ملک کی کابینہ کے زائد اختیارات کے ساتھ ساتھ اسی نسبت سے زائد فرائض بھی ہوتے ہیں اسی طرح اسلام نے مرد پر عورت کی نسبت زائد ذمہ داریاں بھی ڈالی ہیں۔پس مرد و عورت کے حقوق و فرائض کے اعتبار سے اسلامی نظام فطرت کے عین مطابق ہے اور اس میں کسی قسم کا رخنہ نہیں۔(قسط نمبر 2، الفضل انٹر نیشنل 13 نومبر 2020ء صفحہ 12) 503