بنیادی مسائل کے جوابات — Page 504
مر دوں کو زرد رنگ کا لباس پہننے کی مناہی سوال: ایک دوست نے حضور انور کی خدمت اقدس میں لکھا کہ حضور ﷺ کے حکم کے مطابق مردوں کو زر درنگ کا لباس پہننے کی مناہی ہے۔لیکن حضرت عثمان کے بارہ میں روایات میں آتا ہے کہ وہ اس رنگ کا لباس استعمال کرتے تھے۔ہر دو باتوں کی تطبیق کس طرح ہو سکتی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 24 مئی 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: کتب احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضور اللم نے مردوں کے لئے معصفر ، ورس اور زعفران سے رنگے کپڑوں (جو عموماً زرد اور سرخ رنگ یا ان سے ملتے جلتے رنگ ہوتے تھے) نیز خالص ریشم یا قتی (ایک قسم کا ریشم کا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔(صحیح مسلم کتاب اللباس والزينة بَاب النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ ) (صحيح بخاري كتاب المرضي باب وُجُوبِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ)(صحيح بخاري كتاب اللباس بَاب الثَّوْبِ الْمُزَعْفَرِ) جبکہ اصفر اور صفرہ (یہ بھی زرد رنگ ہی تھا) کا حضور ام نے خود بھی استعمال فرمایا اور خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ بھی یہ رنگ استعمال کیا کرتے تھے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ حضور ا ہم نے سرخ اور زرد رنگ کا جبہ (حلَّةٌ حَمْراء) پہنا۔(صحيح بخاري كتاب اللباس باب الثَّوْبِ الأَحْمَرِ) حضرت عبد الله بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو زرد رنگ سے اپنے (بالوں اور داڑھی) کو رنگتے ہوئے دیکھا اس لئے میں بھی اپنے بالوں اور داڑھی) کو اس رنگ سے رنگتا ہوں۔(صحيح بخاري كتاب الوضوء بَاب غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ فِي النَّعْلَيْنِ وَلَا يَمْسَحُ عَلَي النَّعْلَيْنِ) اسی طرح حضرت عبد الرحمن بن عوف پر حضور ﷺ نے زرد رنگ دیکھا تو حضور الم کے پوچھنے پر انہوں نے عرض کی کہ انہوں نے شادی کی ہے، اس لئے ان پر زرد رنگ لگا ہوا ہے۔(سنن نسائي كتاب النكاح باب التَّزْوِيجُ عَلَي نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ) رنگوں کی کئی اقسام اور کئی Shades ہوتے ہیں۔احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ا نے کسی خاص قسم کے زرد رنگ سے منع فرمایا تھا جسے یا تو اس زمانہ میں اس علاقہ میں 504