بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 502 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 502

علاوہ ازیں اسلام نے مردوں اور عورتوں کے بعض حقوق و فرائض ان کے طبائع کے مطابق الگ الگ بیان فرمائے ہیں۔مرد کو پابند کیا کہ وہ محنت مزدوری کرے اور گھر کی تمام ضروریات پوری کرے اور عورت کو کہا کہ وہ گھر اور بچوں کی حفاظت اور تربیت کرے۔گویا باہر کی دوڑ دھوپ کے لئے مرد کو اس کی صلاحیتوں کے پیش نظر منتخب کیا اور عورت کی فطرت کے مطابق اور اس کے وقار کے پیش نظر گھر کی سر براہی اس کے سپر د کر دی۔آنحضور ﷺ کا ارشاد کہ عورت میں دین اور عقل کے لحاظ سے ایک طرح کی کمی ہے۔اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کیونکہ یہ بھی عورت کی فطرت کے عین مطابق کہی گئی بات ہے۔دین کی کمی تو آنحضور لم نے خود بیان فرما دی کہ اس کی عمر کے ایک بڑے عرصہ میں اس پر ہر ماہ کچھ ایسے ایام آتے ہیں جن میں اسے ہر قسم کی عبادات سے رخصت ہوتی ہے۔اور دیکھا جائے تو یہ بھی ایک طرح سے اس پر خدا تعالیٰ کا احسان ہے۔جبکہ عقل کی کمی کی بات میں بھی عورت کی تحقیر نہیں کی گئی بلکہ اس سے مراد عورت کی سادگی ہے، جس کا ثبوت آج کی دنیا میں عورت نے خود مہیا کر دیا ہے کہ وہ بہت سادہ ہے۔کیونکہ مغربی دنیا کے مرد نے اسے آزادی کا جھانسہ دے کر جس طرح اپنے فائدہ کے لئے استعمال کیا ہے وہ اصدقُ الصَّادِقین حضرت محمد مصطفی ایم کے اس قول کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مرد نے اپنی ہوس کی خاطر اسے گھر کی چار دیواری سے نکال کر باہر بازار میں لا کھڑا کیا ہے۔اور اسلام نے روزی روٹی کی جو ذمہ داری مرد پر ڈالی تھی اس میں بھی مرد نے عورت کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی یہ ذمہ داری اسے بانٹ کر اسے اپنے فائدہ کے لئے استعمال کیا ہے۔جہاں اسے مردوں کی طرح محنت کے ساتھ ساتھ مختلف الانواع مردوں سے واسطہ پڑتا جو بسا اوقات اپنی نظروں کی ہوس پوری کرنے کے لئے مختلف زاویوں سے اس پر نظریں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر اگر غور کیا جائے تو مغربی دنیا کا عورت اور مرد کی برابری کا اعلان صرف ایک کھوکھلا دعویٰ ہی ہے۔اسی مغربی دنیا میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جس کی حکومتی مشنری چلانے والے 502