بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 427 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 427

غیر مسلموں پر رحم کرنا اور ان کے لئے استغفار کرنا سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کیا غیر مسلموں پر رحم کرنا اور ان کے لئے استغفار کرنا جائز ہے۔اور ان پر اتمام حجت ہونے یا نہ ہونے سے ان کے لئے رحم اور استغفار کرنے میں کوئی فرق پڑے گا؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 جولائی 2020ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: قرآن کریم کا علم رکھنے والے کی طرف سے اس قسم کا سوال کرنا قابل تعجب ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جس طرح اپنے لئے رب العالمین کے الفاظ استعمال کر کے یہ مضمون بیان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں میں پائی جانے والی مخلوق کی رنگ و نسل اور مذہب و ملت کا فرق کئے بغیر ربوبیت کرنے والی ذات ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی اللی علم کی ذات بابرکات کے لئے رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَا رَحْمَةً لِلْمُسْلِمِيْنَ کی بجائے رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ (الانبیاء: 108) کے الفاظ استعمال فرما کر ہمیں بتا دیا کہ یہ رسول تمام جہانوں کے لئے بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب و ملت سراپا رحمت ہے۔یہی تعلیم حضور الم نے اپنے متبعین کو بھی دی۔چنانچہ آپ نے فرمایا لا يَرْحَمُ اللهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ (صحيح بخاري كتاب التوحید) یہاں پر بھی حضور اللہ تم نے يَرْحَمُ الْمُؤْمِنِيْنَ يا يَرْحَمُ الْمُسْلِمِيْنَ کی بجاۓ يَرْحَمُ النَّاس کے الفاظ استعمال کر کے ہمیں سمجھا دیا کہ ایک حقیقی مسلمان کا دل جب تمام بنی نوع انسان کے لئے رحمت کے جذبہ سے لبریز ہو گا تب وہ اللہ تعالیٰ کے رحم کا مورد ہو سکے گا۔جہاں تک کسی کے لئے استغفار کرنے کا تعلق ہے تو اس بارہ میں بھی قرآن و سنت نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے کہ ایسا مشرک جس کے متعلق یہ واضح ہو جائے کہ وہ خدا کا دشمن اور یقیناً جہنمی ہے اس کے لئے استغفار نہ کیا جائے۔اور کسی کے جہنمی ہونے کا علم یاتو اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے یا اس کے ان انبیاء اور برگزیدوں کو ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ خود کسی کے جہنمی ہونے 427