بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 428

کی خبر دیتا ہے۔اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے ان کے والد کے عَدُوُّ اللہ ہونے کی خبر دی تو آپ اس کے لئے استغفار سے دست بردار ہو گئے۔(سورۃ التوبه: 114) مدینہ کے منافقین کی شرارتوں اور ان کی طرف سے آنحضور الم اور مسلمانوں کو دی جانے والی تکالیف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے لئے سخت انذار فرمایا اور انہیں نافرمان قرار دیتے ہوئے جہنمی قرار دیا۔لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آنحضور کو چونکہ اس وقت تک ان کے لئے استغفار کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا تھا۔اس لئے رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کی وفات پر حضور ام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے اس اختیار کی بناء پر اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے لئے استغفار کیا۔اسلام کی عفو کی تعلیم اپنے اندر ایک ایسی گہری حکمت رکھتی ہے جس سے پہلے مذاہب کی تعلیمات عاری تھیں۔لہذا اسلام اپنے ہر دشمن کے لئے جب تک کہ اس کے اصلاح پانے کی امید باقی ہو ، ہدایت کی دعا کرنے اور اس کی تربیت کے لئے کوشش کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔چنانچہ جنگ اُحد میں جب مسلمانوں کو نقصان پہنچا اور حضور اللم بھی زخمی ہو گئے تو کسی نے حضور الم کی خدمت میں مخالفین اسلام کے خلاف بد دعا کرنے کی درخواست کی تو آپ الم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے لعنت ملامت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اس نے مجھے خدا کا پیغام دینے والا اور رحمت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔اس کے بعد حضور ﷺ نے اللہ کے حضور یہ دعا کی کہ اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دیدے کیونکہ وہ (میرے مقام اور اسلام کی ) حقیقت سے نا آشنا ہیں۔(شعب الایمان للبيهقي) اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ حضور اللام نے اللہ کے حضور یہ التجا کی کہ اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ (اسلام اور میرے مقام کی ) لاعلمی کی وجہ سے اسلام کی مخالفت کر رہی ہے۔(المعجم الكبير للطبراني) پس اسلام اپنے متبعین کو تاکید کرتا ہے کہ وہ تمام بنی نوع انسان کے لئے بلا امتیاز مذہب و ملت اور رنگ و نسل رحم کے جذبات سے پر ہوں اور سوائے ان مشرکوں اور خدا کے دشمنوں کے جن کے جہنمی ہونے پر اللہ تعالیٰ نے مُہر ثبت فرما دی ہو، ہر ایک کے لئے استغفار کرنے والے ہوں۔428