بنیادی مسائل کے جوابات — Page 426
غیر حکومتی بینکوں یا مالیاتی اداروں کے ساتھ لین دین سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ایک احمدی کے کسی غیر احمدی کے جنازہ پڑھنے کے بارہ میں نیز بینک کے ساتھ مختلف معاملات لین دین کے بارہ میں مسائل دریافت کئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 جنوری 2020ء میں ان سوالات کے درج ذیل جوابات عطا فرمائے۔حضور نے فرمایا: جواب: غیر حکومتی بینکوں یا مالیاتی اداروں کے ساتھ لین دین کے معاملات میں اگر سود شامل ہو تو یہ ناجائز ہے۔لیکن اگر لین دین نفع نقصان کی شراکت کے طریق پر ہو تو جائز ہے۔اسی طرح حکومتی بینکوں یا حکومتی مالیاتی اداروں میں جمع کروائی جانے والی رقوم پر ملنے والی زائد رقم سود شمار نہیں ہوتی۔کیونکہ حکومتی بینک اور مالیاتی ادارے اپنے سرمایہ کو رفاہی کاموں پر لگاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ملکی باشندوں کی سہولتوں کے لئے مختلف منصوبے بنائے جاتے ہیں، معیشت میں ترقی ہوتی ہے اور افراد ملک کے لئے روز گار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے ایسے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے ملنے والے منافع کو ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔( قسط نمبر 15، الفضل انٹر نیشنل 21 تا 31 مئی 2021ء ( خصوصی اشاعت برائے یوم خلافت ) صفحہ 24) 426