بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 343 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 343

سوال: جرمنی سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ سود لینا اور دینا حرام ہے، مغربی دنیا میں جب کوئی اپنا مکان خریدنا چاہتا ہے تو اسے اس پر بھی سود دینا پڑتا ہے۔تو کیا ایک مسلمان ان ممالک میں اپنا گھر نہیں خرید سکتا؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 مئی 2022ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: مغربی دنیا میں مار گیج کے ذریعہ جو مکان خریدے جاتے ہیں، ان میں عموماً بینک یا کسی مالیاتی ادارہ سے قرض حاصل کیا جاتا ہے، اور جب تک یہ قرض واپس نہ ہو جائے ایسا مکان قرض دینے والے بینک یا اس مالیاتی ادارہ ہی کی ملکیت رہتا ہے۔اور بینک یا مالیاتی ادارہ اپنے اس قرض پر کچھ زائد رقم بھی وصول کرتا ہے۔جس کی وجہ وہ پیسہ کی Devaluation بتاتے ہیں۔چونکہ ان ممالک میں ہر انسان اپنے رہنے کے لئے بھی مکان آسانی سے نہیں خرید سکتا، اس لئے یا تو اسے ساری زندگی کرایہ کے مکان میں رہنا پڑتا ہے، جس میں اسے زندگی بھر ادا کئے گئے کرایہ کا اس مکان میں رہنے کے علاوہ اور کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ کرایہ کی اتنی بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود یہ مکان کبھی بھی اس کی ملکیت نہیں ہوتا۔یا پھر وہ ان مجبوری کے حالات میں مار گیج کی سہولت سے فائدہ اٹھا کر اپنی رہائش کے لئے ایک گھر خرید لیتا ہے۔جس پر اسے تقریباً اتنی ہی مار گیج کی قسط ادا کرنی پڑتی ہے جس قدر وہ مکان کا کرایہ دے رہا ہو تا ہے ، لیکن مار گیج میں اسے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان اقساط کی ادائیگی کے بعد یہ مکان اس کی ملکیت ہو جاتا ہے۔پس مار گیج کے ذریعہ مکان خریدنا ایک مجبوری اور اضطرار کی کیفیت ہے، جس سے صرف اپنی رہائش کے لئے ایک مکان کی خرید تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔لیکن مار گیج کے اس طریق کار کے ذریعہ کاروبار کے طور پر مکان در مکان خرید تے چلے جانا کسی صورت میں بھی درست نہیں اور جماعت اس امر کی ہر گز حوصلہ افزائی نہیں کرتی، بلکہ اس سے منع کرتی ہے۔(قسط نمبر 55، الفضل انٹر نیشنل 20 مئی 2023 صفحہ 7) 343