بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 344

سوگ سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں اپنے بھائی کی وفات کا ذکر کر کے بیوہ کے سوگ نیز باقی لوگوں کے سوگ خصوصا بھائی کی وفات پر بہن کے سوگ کے بارہ میں اسلامی احکامات دریافت کئے ؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 04 فروری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: ا جواب: اسلام نے اپنے متبعین کی خوشی و غمی کے ہر معاملہ میں رہنمائی فرمائی ہے۔چنانچہ کسی پیارے کی وفات پر صبر کرنے کی تلقین کے ساتھ اس کی جدائی کے غم کے اظہار کی بھی اجازت دی اور تمام عزیزوں کو جن میں وفات پانے والے کے والدین، بہن بھائی اور اولا د وغیرہ سب شامل ہیں، زیادہ سے زیادہ تین دن تک سوگ کی اجازت دی ہے۔جبکہ بیوی کو اپنے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن تک سوگ کی ہدایت فرمائی ہے، جس کا قرآن کریم کی سورۃ البقرۃ میں ذکر ہے۔نیز احادیث میں بھی حضور لم نے مختلف مواقع پر اس کا ارشاد فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ (جو حضور ام کی ربیبہ تھیں) سے روایت ہے کہ میں حضور ایم کی زوجہ محترمہ حضرت ام حبیبہ کے پاس گئی تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ہم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی ایسی عورت کے لئے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کی وفات کے کہ اس پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی۔(راویہ کہتی ہیں) پھر جب حضرت زینب بنت جحش کے بھائی کی وفات ہوئی تو میں ان کے پاس گئی۔(اور جب ان کے بھائی کی وفات پر تین دن گزر گئے تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اسے اپنے پر لگایا اور پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی حاجت نہیں تھی مگر میں نے رسول اللہ ایم کو منبر پر فرماتے ہوئے خود یہ سنا ہے کہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگ کرے۔سوائے اپنے شوہر کی وفات پر، کہ اس پر وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔(بخاري كتاب الجنائز باب إِحْدَادِ الْمَرْأَةِ عَلَي غَيْرِ زَوْجِهَا) ، 344