بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 318 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 318

روزه سوال: آسٹریلیا کے واقفات نو کے اسی پروگرام گلشن وقف نو مؤرخہ 12 اکتوبر 2013ء میں ایک بچی نے حضور انور کی خدمت اقدس میں سوال کیا کہ ہم رمضان کے روزے کس عمر میں رکھنا شروع کریں؟ اس استفسار کا جواب عطا فرماتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جواب: روزے تم پر اس وقت فرض ہوتے ہیں جب تم لوگ پوری طرح Mature ہو جاؤ۔اگر تم سٹوڈنٹ ہو اور تمہارے امتحان ہو رہے ہیں تو ان دنوں میں اگر تمہاری عمر تیرہ، چودہ، پندرہ سال ہے تو تم روزے نہ رکھو۔اگر تم برداشت کر سکتی ہو تو پندرہ سولہ سال کی عمر میں روزے ٹھیک ہیں۔لیکن عموما فرض روزے جو ہیں وہ سترہ، اٹھارہ سال کی عمر سے فرض ہوتے ہیں، اس کے بعد بہر حال رکھنے چاہئیں۔باقی شوقیہ ایک ، دو، تین ، چار روزے اگر تم نے رکھنے ہیں تو آٹھ دس سال کی عمر میں رکھ لو، فرض کوئی نہیں ہیں۔تمہارے پہ فرض ہوں گے جب تم بڑی ہو جاؤ گی، جب روزوں کو برداشت کر سکتی ہو۔یہاں (آسٹریلیا میں۔مرتب) مختلف موسموں میں کتنا فرق ہوتا ہے ؟ Day Light کتنے گھنٹے کی ہوتی ہے ؟ سحری اور افطاری میں کتنا فرق ہوتا ہے ؟ بارہ گھنٹے ؟ اور Summer میں کتنا ہوتا ہے؟ انیس گھنٹے کا ہوتا ہے؟ ہاں تو بس انہیں گھنٹے تم بھوکی نہیں رہ سکتی۔یو کے میں بھی آجکل، جو پیچھے گرمیاں گزری ہیں، ان میں تمہارے روزے چھوٹے تھے اور وہاں لمبے روزے تھے۔ساڑھے اٹھارہ گھنٹے کے روزے تھے۔تو سویڈن وغیرہ میں بائیس گھنٹے کے روزے ہوتے ہیں۔تو وہاں تو بہر حال وقت کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ اتنا لمبا روزہ بھی نہیں رکھا جا سکتا۔لیکن برداشت اس وقت ہوتی ہے جب تم جوان ہو جاتی ہو، کم از کم سترہ اٹھارہ سال کی ہو جاؤ تو پھر ٹھیک ہے۔پھر روزے رکھو۔سمجھ آئی ؟ تمہارے اتاں اتنا کیا کہتے ہیں؟ دس سال کی عمر میں تم پر روزہ فرض ہو گیا ہے ؟ لیکن عادت ڈالا کرو۔چھوٹے بچوں کو بھی دو تین روزے ہر رمضان میں رکھ لینے چاہئیں تاکہ پتہ لگے کہ رمضان آ رہا ہے۔لیکن روزے نہ بھی رکھنے ہوں تو صبح اٹھو اور 318