بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 317

سے اعلیٰ گھر اُسے ملتا ہے اور اس کے بعد اُس سے اعلیٰ گھر۔اسی طرح خدا تعالیٰ اسے کئی دنیاؤں کی سیر کرا دیتا ہے اس لئے مومن کے گھر کئی ہوں گے اور کافر کا گھر ایک۔( تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 312،311) پھر قرآن کریم میں اہل جنت اور اہل جہنم کا جہاں ذکر کیا گیا ہے، وہاں ان دونوں کے درمیان ایک روک کے حائل ہونے کا بھی ذکر کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنتی اور جہنمی ایک دوسرے سے نہیں مل سکیں گے۔(سورۃ الاعراف:47) لیکن جہاں تک مختلف درجات والے جنتیوں کے آپس میں ملنے جلنے کا معاملہ ہے تو قرآن وحدیث میں جنت کے مختلف مقام اور مدارج کا تو ذکر ہوا ہے لیکن جنت کے ان مختلف مقام اور مدارج میں رہنے والوں کے آپس میں ملنے جلنے میں کسی روک ٹوک کا کوئی ذکر نہیں آیا۔بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان کے معاملہ میں ان کے پیچھے چلی ہے ہم اعلیٰ جنتوں میں ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ جمع کر دیں گے اور ان کے باپ دادوں کے عملوں میں بھی کوئی کمی نہیں کریں گے۔(سورۃ الطور:22) پس قرآن کریم کے ان مضامین سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نیک روحیں اللہ تعالیٰ کے اذن سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں گی اور ایک دوسرے سے میل ملاقات کر سکیں گی۔لیکن بد روحیں جو جہنم میں اپنی سزا بھگت رہی ہوں گی وہ اپنی سزا پوری ہونے تک اسی قید خانہ میں مقید رہیں گے اور جب ان کی سزا پوری ہو جائے گی تو اللہ تعالی کی رحمت کی بدولت وہ بھی جنت میں چلی جائیں گے۔(قسط نمبر 53، الفضل انٹر نیشنل 29 اپریل 2023ء صفحہ 4) 317