بنیادی مسائل کے جوابات — Page 311
رمضان میں گھروں کو سجانا اور رمضان کیلنڈر بناکر عید تک دنوں کی گنتی کرنا سوال: محترم ناظم صاحب دار الافتاء ربوہ نے ایک استفتاء بابت کرسمس کی طرز پر رمضان میں گھروں کو سجانے اور رمضان کیلنڈر بنا کر عید تک دنوں کی گنتی کرنے کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے رہنمائی چاہی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 مئی 2022ء میں اس مسئلہ کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اصل بات یہ ہے کہ اس امر میں بھی ہمیں آنحضور الم کے ارشادِ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنیات کو ہی پیش نظر رکھنا چاہیئے۔اگر تو رمضان میں گھروں کو سجانے اور رمضان کیلنڈر بنانے میں نیت یہ ہو کہ اہل خانہ اور بچوں کو رمضان کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی جائے، گھر میں ایسا ماحول بنا کر گھر والوں اور خاص طور پر بچوں کو رمضان کی عبادات اور دعاؤں کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا جائے تاکہ سحری اور افطاری کے وقت وہ اس ماحول کو دیکھ کر دعا اور عبادات میں مشغول ہو سکیں۔اور اس طرح رمضان کے ہر دن کا ایک جوش اور ولولہ کے ساتھ وہ استقبال کر کے اس میں نازل ہونے والی برکتوں سے استفادہ کر سکیں تو اس نیت کے ساتھ ایسا کرنے میں بظاہر کوئی حرج کی بات نہیں۔لیکن اگر صرف دکھاوا مطلوب ہو اور یہ سارے پاپڑ صرف ریا اور نمود و نمائش کے لئے بیلے جائیں اور ایک ایک دن اس سوچ کے ساتھ گزارا جائے کہ چلو اچھا ہوا اتنے دن گزر گئے ، جن سے جان چھوٹ گئی ، باقی دن بھی جلد گزر جائیں گے اور پھر عید منائیں گے اور عید میں بھی حقیقی خوشیاں تلاش کرنے کی بجائے صرف ظاہری خوشیوں کا خیال رکھا جائے تو اس نیت کے ساتھ گھروں کو سجانا اور رمضان کیلنڈر بنانے ہر گز جائز نہیں۔پس خلاصہ کلام یہ کہ اگر اس کام سے اہل خانہ میں کوئی پاک تبدیلی پیدا ہو رہی ہو اور انہیں رمضان کی برکات کی طرف توجہ پیدا ہو کر اس سے استفادہ کرنے کا موقعہ ملے تو یہ سجاوٹ اور 311