بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 271 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 271

دی جاوے گی۔ہر دکھ جو اس جہان میں ہے اس کا تدارک اور تلافی دوسرے عالم میں کر دی جاوے گی۔جو کمی اس جہان میں پائی جاتی ہے وہ آئندہ عالم میں پوری کر دی جاوے گی۔باقی رہا دکھ، درد، تکلیف، رنج و محن، یہ تو ادنیٰ و اعلیٰ کو یکساں برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہ اس نظام عالم کے قیام کے واسطے لازمی اور ضروری تھے۔اگر وسیع نظر سے دیکھا جاوے تو کوئی بھی دکھ سے خالی نہیں۔ہر مخلوق کو علی قدر مراتب اس میں سے حصہ لینا ہی پڑتا ہے۔البتہ کسی کو کسی رنگ میں ہے اور کسی کو کسی رنگ میں۔۔۔دوسری بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ چونکہ تکالیف انسانی، تکالیف حیوانی سے بڑھی ہوئی ہیں۔(اسی واسطے انسانی اجر بھی حیوانی اجر سے بڑھا ہوا ہو گا)۔تکالیف انسانی دو قسم کی ہیں۔ایک تکالیف شرعیہ۔دوسری تکالیف قضا و قدر تکالیف قضا و قدر میں انسان و حیوان مشترک اور قریباً برابر ہیں۔۔۔باقی تکالیف شرعیہ میں انسان کے ساتھ حیوانات کا کوائی اشتراک نہیں ہے۔احکام شرعیہ بھی ایک قسم کی چُھری ہے جو انسانی گردن پر چلتی۔مگر حیوان اس سے بری الذمہ ہیں۔امور شرعیہ بھی ایک موت ہیں جو انسان کو اپنے اوپر وارد کرنی پڑتی ہے۔پس اس طرح سے ان باتوں کو یکجائی طور سے دیکھنے سے صاف معلوم ہو گا کہ تکالیف انسانی تکالیف حیوانی سے بہت بڑھی ہوئی ہیں۔ہے۔تیسری بات جو قابل یاد ہے یہ ہے کہ انسانی حواس میں بہت تیزی ہے۔انسان میں قوت احساس زیادہ پائی جاتی ہے۔حیوانات یا نباتات اس کے مقابل میں بہت کم احساس رکھتے ہیں۔۔۔پس حیوانات ان تکالیف کا بہت کم احساس کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ بعض اوقات بالکل ہی نہ کرتے ہوں۔271