بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 272

66 ب جائے غور ہے کہ دنیا میں ان تکالیف کا بوجھ کس پر زیادہ ہے۔آیا انسان پر یا حیوان پر ؟ صاف ظاہر ہے کہ انسان ہی کو ان مشکلات دنیوی میں بہ نسبت حیوانات کے زیادہ حصہ لینا پڑتا ہے۔اسی تسلسل میں پروفیسر صاحب کے اگلے سوال کہ حیوانات کو بھی آئندہ عالم میں کوئی بدلہ دیا جاوے گا؟ کے جواب میں حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”ہاں ہم مانتے ہیں کہ علی قدر مراتب سب کو ان کی تکالیف دنیوی کا بدلہ دیا جاوے گا اور ان کے دکھوں اور تکالیف کی تلافی کی جاوے گی۔“ نیز پروفیسر صاحب کے سوال کہ تو پھر اس کا یہ لازمی نتیجہ ہو گا کہ وہ حیوانات جن کو ہم مارتے ہیں ان کو مردہ نہیں بلکہ زندہ یقین کر حضور علیہ السلام نے فرمایا:۔”ہاں یہ ضروری بات ہے وہ فنا نہیں ہوئے ان کی روح باقی ہے۔وہ نہیں مرے بلکہ وہ بھی زندہ ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 429 تا432 ایڈیشن 1984ء) اس مکالمہ میں حضور علیہ السلام نے احکام شرعیہ کے حوالہ سے انسانوں اور جانوروں کے مکلف ہونے اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک کا جو باہمی امتیاز بیان فرمایا ہے، وقف نو کی کلاس میں میں نے بھی کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے جانوروں کی زندگی کے اسی دنیا میں خاتمہ کا کہا تھا۔جس سے میری مراد یہ تھی کہ جانور چونکہ احکام شرعیہ کے پابند نہیں ہیں، اس لئے اگلے جہان میں ان کے ساتھ انسانوں والی جزاء سزاء کا معاملہ نہیں ہو گا۔البتہ جس طرح احادیث میں بھی آتا ہے کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ دلوایا جائے گا۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة والاداب قیامت کے دن ان کے درمیان صرف آپس کے بدلہ کے لین دین کا معاملہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اوپر مذکور ارشاد کے آخری الفاظ بھی جانوروں کی روح کی اسی قسم کی بقا کو بیان فرمارہے ہیں۔272