بنیادی مسائل کے جوابات — Page 270
حیوانات، جانوروں کے مرنے کے بعد ان کی ارواح کا باقی رہنا سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے حیوانات کے مرنے کے بعد ان کی ارواح کے باقی رہنے کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ارشاد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بھجوا کر لکھا ہے کہ آپ نے وقف نو کی ایک کلاس میں فرمایا تھا کہ جانوروں کے مرنے کے بعد ان کی روح باقی نہیں رہتی اور ان کی زندگی دنیا میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔اور دریافت کیا ہے کہ ان دونوں باتوں میں مطابقت کیسے ہو سکتی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 19 اکتوبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آپ نے اپنے خط میں جس مکالمہ کے حوالہ سے سوال کیا ہے، یہ مکالمہ 1908ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور انگلستان کے پروفیسر ریگ صاحب کے مابین لاہور میں دو نشستوں میں سوال و جواب کی صورت میں ہوا تھا۔جس میں پروفیسر صاحب نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کی ذات، انبیاء کرام کی بعثت، کائنات، نیکی اور بدی کی تحریکات، شیطان، دنیوی اور اُخروی زندگی، انسانوں کا ارواح سے تعلق، ادنی کا اعلیٰ کے لئے قربان ہونا، حیوانات اور ان کی ارواح اور مسئلہ ارتقاء وغیرہ مختلف موضوعات پر ایک تسلسل میں سوالات پیش کئے۔اور حضور علیہ السلام نے ان سوالات کے نہایت بصیرت افروز جوابات عطاء فرماتے ہوئے جہاں ان موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی وہاں حضور علیہ السلام نے انسانوں اور حیوانات کے عقل و شعور، تکالیف، احساسات اور ان کے اس دنیا کے اعمال وافعال نیز اُخروی زندگی میں ملنے والے اجر کے باہمی فرق کو بھی واضح فرمایا۔چنانچہ ایک سوال کے جواب میں حضور علیہ السلام نے فرمایا: یہ عالم ایک مختصر عالم ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے ایک وسیع عالم رکھا ہے جس میں اس نے ارادہ اور وعدہ کیا ہے کہ سچی اور ابدی خوشحالی 270