بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 254

میں فرق ان کی سزاؤں کے لحاظ سے کیا جاتا ہے اسی طرح جن اشیاء کی حرمت قرآن کریم میں آئی ہے اگر انسان اُن کو استعمال کرے گا تو اس کی سزا زیادہ سخت ہو گی۔اور جن سے آنحضرت ام نے منع فرمایا ہے ان کے استعمال سے اس سے کم درجہ کی سزا ملے گی لیکن بہر حال دونوں جرم قابل گرفت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوں گے۔حرام فعل کا ارتکاب کرنے سے انسان کے ایمان پر اثر پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ لازماً بدی ہوتی ہے۔لیکن دوسری چیزوں کے استعمال کا نتیجہ لاز مابدی اور بے ایمانی کے رنگ میں نہیں نکلتا۔چنانچہ دیکھ لو۔مسلمانوں میں سے بعض ایسے فرقے جو ان اشیاء کو مختلف تاویلات کے ذریعے جائز سمجھتے اور انہیں کھالیتے ہیں جیسے مالکی، ان کا اثر ان کے ایمان پر نہیں پڑتا۔اور ان میں بے ایمانی اور بدی پیدا نہیں ہوتی۔بلکہ گزشتہ دور میں تو ان میں اولیاء اللہ بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔لیکن خنزیر کا گوشت یا مردار کھانے والا کوئی شخص ولی اللہ نظر نہیں آئے گا۔پس حُرمت کے بھی مدارج ہیں اور ان چاروں حرام چیزوں کے سوا باقی تمام ممنوعات ہیں جن کو عام اصطلاح میں حرام کہا جاتا ہے ورنہ قرآنی اصطلاح میں وہ حرام نہیں ہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه : 340) حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ حلال و حرام کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قرآن میں آیا ہے۔لَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوْا عَلَى اللهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لا يُفْلِحُونَ۔یہ خدا پر افتراء باندھنا ہے کہ یہ حلال ہے یا حرام۔خدا نے فرمایا ہے حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ الله - حدیث شریف میں رسول کریم ایم نے فرمایا۔کہ جو جانور شکاری ہے وہ حرام ہے۔اس میں درندے ، شکاری پرند وغیرہ سب داخل ہیں۔اب اس سے زیادہ کوئی مجاز نہیں کہ کسی کو حلال اور حرام کہے۔مگر دنیا 254