بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 250

حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علیہما السلام کا قتل سوال: ایک دوست نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کیا حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علیہما السلام کو قتل کیا گیا تھا یا قتل سے مراد ان کے پیغام کا قتل ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس بارہ میں اپنے مکتوب مؤرخہ 11 اگست 2020ء میں درج ذیل ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علیہما السلام کے قتل کے بارہ میں جس طرح تاریخ وسیرت کی کتب میں اور علمائے سلف کے نظریات میں اختلاف پایا جاتا ہے، اسی طرح جماعت میں بھی اس بارہ میں قرآنی آیات سے استدلال اور احادیث کی تشریح کی روشنی میں خلفائے احمدیت کی آراء مختلف ہیں۔میری رائے اس بارہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق ہے اور میں قرآن کریم، احادیث نبوی لیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں اسی موقف پر قائم ہوں کہ کسی بھی سلسلہ کا پہلا اور آخری نبی یا وہ نبی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہو کہ وہ اسے انسانوں کی دسترس سے بچائے گا، قتل نہیں ہو سکتے۔ان کے علاوہ باقی انبیاء کے لئے قتل نفس کوئی معیوب بات نہیں اور اس سے نبی کی شان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا کیونکہ قتل بھی شہادت ہوتی ہے۔مگر ہاں ناکام قتل ہو جانا انبیاء کی شان میں سے نہیں ہے۔پس جب ایک نبی اپنا کام پورا کر چکے تو پھر وہ طبعی طور پر فوت ہو یا کسی کے ہاتھ سے شہید ہو جائے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔کیونکہ کامیابی کی موت پر نہ کسی کو تعجب ہوتا ہے اور نہ دشمن کو خوشی ہوتی ہے۔پس حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علیہما السلام بھی کسی سلسلہ کے پہلے اور آخری نبی نہیں تھے اور نہ ہی ان کے بارہ میں خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا وعدہ مذکور ہے کہ وہ انہیں دشمن کے ہاتھ سے ضرور محفوظ رکھے گا۔اسی طرح ہمارا ایمان ہے کہ جب ان انبیاء کی شہادت ہوئی تو یقیناً وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کر چکے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد فرمائی تھیں۔(قسط نمبر 26، الفضل انٹر نیشنل 07 جنوری 2022ء صفحہ 11) 250