بنیادی مسائل کے جوابات — Page 249
حضرت یوسف کا زمانہ گزر جانے کے بہت عرصہ بعد جب بنی اسرائیل کی تعداد اس قدر بڑھ گئی کہ ملک ان سے بھر گیا تو اس وقت کے بادشاہ نے ان کی تعداد سے خوف کھا کے ان پر طرح طرح کی سختیاں شروع کر دیں۔لیکن وہ جس قدر ستائے گئے اسی قدر ان کی تعداد میں اضافہ ہو تا گیا۔چنانچہ شاہ مصر نے دائیوں کو حکم دیا کہ اگر اسرائیلی عورتوں کے ہاں لڑکا پیدا ہو تو اسے مار دینا اور اگر لڑکی پیدا ہو تو اسے زندہ رہنے دینا۔لیکن دائیوں نے بادشاہ کے حکم پر عمل نہ کیا۔(ماخوذ از خروج باب 1 آیت 7 تا 17) علاوہ ازیں تفاسیر میں بھی لکھا ہے کہ مصری چونکہ بنی اسرائیل سے بیگار کا کام لیتے تھے اس لئے ایک سال اسرائیلیوں کے لڑکوں کو زندہ رکھتے تھے اور ایک سال قتل کروا دیتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کی تعداد زیادہ نہ بڑھ سکے لیکن مصریوں کو محنت مزدوی کے لئے لیبر ملتی رہے۔چنانچہ حضرت ہارون علیہ السلام کی پیدائش اس سال ہوئی جس سال بنی اسرائیل کے لڑکوں کو زندہ رکھا گیا تھا۔(معالم التنزيل ( تفسير البغوي مؤلفه ابو محمد لحسين بن مسعود۔زیر آیت نمبر 50 از سورة البقرة) پس حضرت ہارون علیہ السلام کے زندہ رہنے کی یہ مختلف وجوہات ہیں جو بائبل اور تفاسیر کی کتب میں بیان ہوئی ہیں۔(قسط نمبر 38، الفضل انٹر نیشنل 22 جولائی 2022ء صفحہ 10) 249