بنیادی مسائل کے جوابات — Page 191
نہ کبھی کسی انسان کے دل میں ان کے بارہ میں کوئی تصور گزرا۔دراصل جنت اور دوزخ اسی دنیا کے ایمان اور عمل کا ایک ظل ہے وہ کوئی نئی چیز نہیں جو باہر سے آکر انسان کو ملے گی بلکہ انسان کی بہشت انسان کے اندر ہی سے نکلتی ہے اور اسی کے ایمان اور اعمال صالحہ ہیں جن کی اسی دنیا میں لذت شروع ہو جاتی ہے اور پوشیدہ طور پر ایمان اور اعمال کے باغ نظر آتے ہیں۔اور نہریں بھی دکھائی دیتی ہیں۔لیکن عالم آخرت میں یہی باغ کھلے طور پر محسوس ہوں گے۔اسی لئے قرآن کریم جنتیوں کے بارہ میں فرماتا ہے: كَلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوْا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوْا بِهِ مُتَشَابِهَا۔(البقرة : 26) کہ جب بھی وہ اُن (باغات) میں سے کوئی پھل بطور رزق دیئے جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا جا چکا ہے۔حالانکہ اس سے پہلے ان کے پاس محض اس سے ملتا جلتا (رزق) لایا گیا تھا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام جنت و دوزخ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قرآن شریف کی رُو سے دوزخ اور بہشت دونوں اصل میں انسان کی زندگی کے اظلال اور آثار ہیں۔کوئی ایسی نئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ جو دوسری جگہ سے آوے۔یہ سچ ہے کہ وہ دونوں جسمانی طور سے متمثل ہوں گے مگر وہ اصل روحانی حالتوں کے اظلال و آثار ہوں گے۔ہم لوگ ایسی بہشت کے قائل نہیں کہ صرف جسمانی طور پر ایک زمین پر درخت لگائے گئے ہوں اور نہ ایسی دوزخ کے ہم قائل ہیں جس میں در حقیقت گندھک کے پتھر ہیں۔بلکہ اسلامی عقیدہ کے موافق بہشت دوزخ انہی اعمال کے انعکاسات ہیں جو دنیا میں انسان کرتا ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 413) (قسط نمبر 18، الفضل انٹر نیشنل 16 جولائی 2021ء صفحہ 11) 191