بنیادی مسائل کے جوابات — Page 190
جنت و دوزخ سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ اگر جنت اور دوزخ کا ظاہری تصور درست نہیں ہے تو پھر جنت اور دوزخ کیا ہے ؟ اور جب قیامت آئے گی تو جنت اور دوزخ کیسی لگیں گی؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 04 فروری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: جنت اور دوزخ کے بارہ میں جس طرح دوسرے مذاہب میں طرح طرح کے تصورات پائے جاتے ہیں مسلمانوں نے بھی قرآن کریم اور احادیث میں بیان جنت و دوزخ کے بارہ میں بیان امور کو نہ سمجھنے اور انہیں ظاہر پر محمول کر دینے کی وجہ سے غلط قسم کے خیالات اپنے ذہنوں میں پیدا کر لئے ہیں۔حالانکہ قرآن و حدیث نے انسان کو سمجھانے کے لئے جنت و دوزخ کے بارہ میں یہ تمثیلی نقشہ بیان فرمایا ہے۔اور ان کے بارہ میں یہ الفاظ بطور استعارہ استعمال فرمائے ہیں اور ان کے پیچھے ایک اور حقیقت مخفی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس تمثیلی نقشہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(السجدة : 18) یعنی کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لئے ان کے اعمال کے بدلہ کے طور پر کیا کیا آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔اسی طرح حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنت کی نعماء ایسی ہیں: مَا لا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنْ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَي قَلْبٍ بَشَرٍ۔(صحیح ملسم كتاب كتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها ) کہ انہیں نہ کبھی کسی انسانی آنکھ نے دیکھا، نہ کبھی کسی انسانی کان نے ان کا حال سنا اور 190