بنیادی مسائل کے جوابات — Page 192
سوال: ایک طفل نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ پہلے سے جانتا ہے کہ ہم جنت میں جائیں گے یا دوزخ میں، اور اگر وہ جانتا ہے تو پھر ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اس پر جواب: دیکھو ایک اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور ایک ہمارا عمل ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ فلاں شخص دوزخ میں جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ ہر شخص کو رستہ بتاتا ہے کہ تم یہ نیک کام کرو گے تو جنت میں جاؤ گے۔یہ بُرے کام ہیں، یہ کرو گے تو دوزخ میں جاؤ گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے انجام بخیر ہونے کی دعامانگنی چاہیے کہ جب ہمارا مرنے کا وقت آئے تو اس وقت ہم اللہ کی باتوں پر ایمان لانے والے ہوں تاکہ ہم جنت میں جائیں۔یا ہماری ایسی کوشش ہو۔قرآن شریف نے بھی ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ ہم اس وقت مریں جب اللہ تعالیٰ ہمارے سے راضی ہو۔تو مقصد یہی ہے کہ ہم اُس وقت جنت میں جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں۔باقی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہے وہ کسی کو بخش بھی دیتی ہے۔ایک شخص کے بارہ میں روایت میں آتا ہے کہ وہ بہت گناہ گار تھا، اس نے بے شمار قتل کئے ہوئے تھے ، نانوے قتل کئے ہوئے تھے۔اس کو خیال آیا کہ میں بڑا برا آدمی ہوں، میں اپنی اصلاح کرلوں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائے اور میں جنت میں چلا جاؤں۔وہ ایک مولوی کے پاس گیا۔اس نے اس سے پوچھا کہ میں نے اتنے قتل کئے ہیں، بہت گناہ گار ہوں۔کیا میں جنت میں جا سکتا ہوں؟ اس نے کہہ دیا کہ نہیں تم جنت میں نہیں جاسکتے۔تم دوزخ میں جاؤ گے ہی جاؤ گے۔اس پہ اس نے اس کو بھی قتل کر دیا کہ جہاں ننانوے قتل کئے ہیں ایک اور قتل کرو تا کہ سوپورے ہو جائیں۔سو قتل کرنے کے بعد پھر اس نے کسی اور سے پوچھا کہ بھئی کوئی ایسا رستہ ہے جہاں میں اللہ کو راضی کر سکوں؟ اس شخص نے کہا ہاں فلاں شہر میں ایک شخص بیٹھا ہے وہ تمہیں صحیح رستہ بتا سکتا ہے، اس کے پاس جاؤ۔جب وہ وہاں جا رہا تھا تو وہ راستے میں مر گیا، اس کو موت آگئی۔جب وہ فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو جس سے وہ قتل کر کے نکلا تھا اس سے دور کر دیا اور جس طرف وہ جارہا تھا اس کو اس کے قریب کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے ایک تمثیلی زبان استعمال کی۔اور پھر فرشتوں کو 192