بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 149

دوسری بات یعنی حسن کے حصول کی خاطر ایسا کرنا، بعض اعتبار سے معاشرتی بے راہ روی اور فحاشی کو ظاہر کرتی ہے۔جائز حدود میں رہتے ہوئے انسان کا اپنی خوبصورتی کے لئے کوئی جائز طریق اختیار کرنا منع نہیں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے اچھا لگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرے کپڑے اچھے ہوں، میری جوتی اچھی ہو، تو کیا یہ تکبر میں شامل ہے ؟ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا یہ تکبر نہیں ہے۔تکبر تو حق کا انکار کرنے اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔اور اس کے ساتھ حضور الم نے یہ بھی فرمایا إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَال یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔(صحیح مسلم كتاب الايمان باب تخرِیمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ) اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ بچیوں کی جب شادی ہوتی تھی تو انہیں بھی اس زمانہ کے طریق کے مطابق بناؤ سنگھار کر کے تیار کیا جاتا اور خوبصورت بنایا جاتا تھا۔(صحيح بخاري كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا بَابِ الْإِسْتِعَارَةِ لِلْعَرُوسِ عِنْدَ الْبِنَاءِ، فَتْحُ الْبَارِي شرح صحيح بخاري كتاب النكاح بَاب اسْتِعَارَةِ الشَّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا) پس جس حسن کے حصول پر حضور ام نے لعنت کا اندار فرمایا ہے، اس کا یقیناً کچھ اور مطلب ہے۔چنانچہ جب ہم اس حوالہ سے ان احادیث پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بھی نظر آتی ہے کہ ان باتوں کی ممانعت کے ساتھ حضور الم نے یہ بھی فرمایا کہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے اس قسم کے کام شروع کئے۔حضور ام کی بعثت کے وقت یہود میں فحاشی عام تھی اور مدینہ میں فحاشی کے کئی اڈے موجود تھے ، جن میں ملوث خواتین، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی خاطر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی تھیں، اس لئے رسول خد الله نے ان کاموں کی شناعت بیان فرما کر مومن عورتوں کو اس وقت اس سے منع فرما دیا۔پس ان چیزوں کی ممانعت میں بظاہر یہ حکمت نظر آتی ہے کہ ان کے نتیجہ میں اگر انسان کی جسمانی وضع قطع میں اس طرح کی مصنوعی تبدیلی واقع ہو جائے کہ مرد و عورت کی تمیز جو خدا تعالیٰ نے انسانوں میں پیدا کی ہے وہ ختم ہو جائے، یا اس قسم کے فعل سے شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے اس کی طرف میلان پیدا ہونے کا اندیشہ ہو یا ان امور کو اس لئے بجالایا 149