بنیادی مسائل کے جوابات — Page 148
سوال: ایک عرب خاتون نے حضور انور کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کسی خاتون نے اس سے پوچھا ہے کہ کیا اس کے لئے عورتوں کی بھنوؤں اور جسم پر ٹیٹو بنانے کا کاروبار کرنا جائز ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 27 اپریل 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں: جواب: ٹیٹو بنانا اور بنوانا تو جائز نہیں ہے۔احادیث میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کے حصول کی خاطر جسموں کو گودنے والیوں، گدھوانے والیوں، چہرے کے بال نوچنے والیوں، سامنے کے دانتوں میں خلا پیدا کرنے والیوں اور بالوں میں پیوند لگانے اور لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے جو خدا کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔(صحيح بخاري كتاب اللباس) اسلام کا ہر حکم اپنے اندر کوئی نہ کوئی حکمت رکھتا ہے۔اسی طرح بعض اسلامی احکامات کا ایک خاص پس منظر ہوتا ہے، اگر اس پس منظر سے ہٹ کر ان احکامات کو دیکھا جائے تو حکم کی شکل بدل جاتی ہے۔آنحضور الم کی جب بعثت ہوئی تو دنیا میں اور خاص طور پر جزیرۂ عرب میں جہاں مختلف قسم کے شرک کا زہر ہر طرف پھیلا ہوا تھا وہاں مختلف قسم کی بے راہ رویوں نے بھی انسانیت کو اپنے پنجہ میں جکڑا ہوا تھا اور عور تیں اور مرد مختلف قسم کی مشرکانہ رسوم اور معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھے۔مذکورہ بالا امور کی ممانعت پر مبنی احادیث میں دو چیزوں کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔ایک یہ کہ ان کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی مقصود ہو اور دوسر احسن کا حصول پیش نظر ہو۔ان دونوں باتوں پر جب ہم غور کرتے ہیں تو پہلی بات یعنی خدا تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی جہاں معاشرتی برائیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے وہاں مشرکانہ افعال کی بھی عکاسی کرتی ہے چنانچہ بالوں میں لمبی گوتیں لگا کر سر پر بالوں کی پگڑی بنا کر اسے بزرگی کی علامت سمجھنا، کسی پیر اور گرو کی نذر کے طور پر بالوں کی لٹیں بنانا یا بودی رکھ لینا، چار حصوں میں بال کر کے درمیان سے استرے سے منڈوا دینا اور اسے باعث برکت سمجھنا۔اسی طرح برکت کے لئے جسم ، چہرہ اور بازو وغیرہ پر کسی دیوی ، بت یا جانور کی شکل گندھوانا۔یہ سب مشرکانہ طریق تھے اور ان کے پیچھے مذہبی تو ہمات کار فرما تھے۔148