بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 150

جائے کہ اپنی مخالف جنس کا ناجائز طور پر اپنی طرف میلان پیدا کیا جائے تو یہ سب افعال ناجائز اور قابل مؤاخذہ قرار پائیں گے۔پس جہاں تک ٹیٹو بنوانے کا تعلق ہے تو مرد ہو یا عورت اس کے پیچھے صرف یہی ایک مقصد ہوتا ہے کہ اس کی نمائش ہو اور اپنی مخالف جنس کا ناجائز طور پر اپنی طرف میلان پیدا کیا جائے۔اسی لئے لوگ عموماً ٹیٹو جسم کے ایسے حصوں پر بنواتے ہیں جنہیں وہ عام لوگوں میں کھلا رکھ کر اس کی نمائش کر سکیں۔لیکن اگر کوئی ٹیٹو جسم کے ستر والے حصہ پر بنواتا ہے تو اس کے پیچھے بھی یہی سوچ ہوتی ہے کہ تابُرائی اور افعال بد کے ارتکاب کے وقت اپنی مخالف جنس کے سامنے ان پوشیدہ اعضاء پر بنے ٹیٹو کی نمائش کی جاسکے۔یہ دونوں طریق ہی اسلامی تعلیمات کے منافی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں۔علاوہ ازیں ٹیٹو کے کئی ظاہری اور میڈیکل نقصانات بھی ہیں۔چنانچہ جسم کے جن حصوں پر ٹیٹو بنوایا جاتا ہے، اس جگہ جلد کے نیچے پسینہ لانے والے گلینڈ بُری طرح متاثر ہوتے ہیں اور ٹیٹو بنوانے کے بعد جسم کے ان حصوں پر پسینہ آنا کم ہو جاتا ہے، جو طبی لحاظ سے نقصان دہ ہے۔اسی طرح بعض قسم کے ٹیٹو چونکہ مستقل طور پر جسم کا حصہ بن جاتے ہیں، اس لئے جسم کے بڑھنے یا سکٹرنے کے ساتھ ٹیٹو کی شکل میں بھی تبدیلی آجاتی ہے، جس سے ٹیٹو بظاہر اچھا لگنے کی بجائے بد صورت لگنے لگتا ہے اور کئی لوگ پھر اسے وبال جان سمجھنے لگتے ہیں لیکن اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔لہذا ان وجوہ کی بناء پر بھی ٹیٹو بنوانا ایک لغو کام ہے۔باقی جہاں تک عورتوں کے اپنی جائز اور اسلامی حدود میں رہتے ہوئے خوبصورتی کے لئے بھنویں بنوانے کا تعلق ہے تو حضور ام نے ان برائیوں کے پس منظر میں جہاں اُس وقت مومن عورتوں کو ان کاموں سے منع فرمایا وہاں تکلیف یا بیماری کی بناء پر اس کا استثناء بھی فرمایا۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّامِصَةِ وَالْوَاشِرَةِ وَالْوَاصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ إِلَّا مِنْ دَاءٍ (مسند احمد بن حنبل) 150