بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 136

کے سراسر خلاف عقیدہ کے رڈ میں اپنی متعدد تصانیف ( جن میں اسلامی اصول کی فلاسفی، چشمہ معرفت، آریہ دھرم، قادیان کے آریہ اور ہم، شحنہ حق، لیکچر لاہور، لیکچر سیالکوٹ وغیرہ شامل ہیں) میں بہت تفصیل کے ساتھ مدلل بحث فرمائی ہے۔حضور علیہ السلام کی ان تصانیف میں سے اسلامی اصول کی فلاسفی، چشمہ معرفت، قادیان کے آریہ اور ہم، لیکچر لاہور اور لیکچر سیالکوٹ کا عربی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ کتب عربی ترجمہ کے ساتھ آن لائن بھی میسر ہیں، وہاں سے آپ تناسخ کے عقیدہ کارڈ بیان فرمودہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پڑھ سکتی ہیں۔بطور نمونہ حضور علیہ السلام کا ایک ارشاد درج ذیل ہے۔حضور فرماتے ہیں: ” دوسرا پہلو جو آریہ مت مخلوق کے متعلق پیش کرتا ہے۔اُن میں سے ایک تو تناسخ ہے۔یعنی بار بار رُوحوں کا طرح طرح کی نجونوں میں پڑ کر دنیا میں آنا۔اس عقیدہ میں سب سے پہلے یہ امر عجیب اور حیرت انگیز ہے که باوجود دعوی عقل کے یہ خیال کیا گیا ہے کہ پر میشر اس قدر سخت دل ہے کہ ایک گناہ کے عوض میں کروڑ ہا برس تک بلکہ کروڑہا اربوں تک سزا دیئے جاتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ اُس کے پیدا کر دہ نہیں ہیں اور اُن پر اس کا کوئی بھی حق نہیں ہے بجز اس کے کہ بار بار مجونوں کے چکر میں ڈال کر دُکھ میں ڈالے۔پھر کیوں انسانی گورنمنٹ کی طرح صرف چند سال کی سزا نہیں دیتا؟ ظاہر ہے کہ لمبی سزا کے لئے یہ شرط ہے کہ سزا یافتوں پر کوئی لمبا حق بھی ہو مگر جس حالت میں تمام ذرات اور ارواح خود بخود ہیں کچھ بھی اُس کا اُن پر احسان نہیں بجز اس کے کہ سزا کی غرض سے طرح طرح کی بجونوں میں اُن کو ڈالے۔پھر وہ کس حق پر لمبی سزا دیتا ہے۔دیکھو اسلام میں باوجودیکہ خدا فرماتا ہے کہ ہر ایک ذرہ اور ہر یک رُوح کا میں ہی خالق ہوں اور تمام قوتیں ان کی میرے ہی فیض سے ہیں اور میرے ہی ہاتھ سے پیدا ہوئے ہیں اور میرے ہی سہارے سے جیتے ہیں۔پھر بھی وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَقَالُ لِمَا يُرِيْدُ (هود: 108) یعنی دوزخی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے 136