بنیادی مسائل کے جوابات — Page 137
لیکن نہ وہ ہمیشگی جو خدا کو ہے بلکہ دور دراز مدت کے لحاظ سے۔پھر خدا کی رحمت دستگیر ہو گی کیونکہ وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اور اس آیت کی تصریح میں ہمارے سید و مولی نبی کریم ایم کی ایک حدیث بھی ہے۔اور وہ یہ ہے يأتي علي جهنّم زمان ليس فيها احد ونسيم الصبا تحرك ابوابھا۔یعنی جہنم پر ایک وہ زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی نہ ہو گا۔اور نسیم صبااُس کے کواڑوں کو ہلائے گی۔لیکن افسوس کہ یہ قومیں خدا تعالیٰ کو ایک ایسا چڑ چڑا اور کینہ ور قرار دیتی ہیں کہ کبھی بھی اُس کا غصہ فرو نہیں ہوتا اور بیشمار اربوں تک جو نوں میں ڈال کر پھر بھی گناہ معاف نہیں کرتا۔۔۔دوسرا پہلو تناسخ کے بطلان کا یہ ہے کہ وہ حقیقی پاکیزگی کے برخلاف ہے۔کیونکہ جب ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ کسی کی ماں فوت ہو جاتی ہے اور کسی کی ہمشیرہ اور کسی کی پوتی۔تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ اس عقیدہ کے قائل اس غلطی میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ ایسی جگہ نکاح کر لیں جہاں نکاح کرنا وید کی رو سے حرام ہے۔ہاں اگر ہر ایک بچہ کے ساتھ اُس کے پیدا ہونے کے وقت میں ایک لکھی ہوئی فہرست بھی ہمراہ ہو جس میں بیان کیا گیا ہو کہ وہ پہلی جون میں فلاں شخص کا بچہ تھا تو اس صورت میں ناجائز نکاح سے بچ سکتے تھے۔مگر پر میشر نے ایسانہ کیا۔گویا ناجائز طریق کو خود پھیلانا چاہا۔پھر ماسوا اس کے ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ اس قدر جونوں کے چکر میں ڈالنے سے فائدہ کیا ہے۔اور جب کہ تمام مدار نجات اور مکتی کا گیان یعنی معرفت الہی پر ہے تو یوں چاہیئے تھا کہ ہر ایک بچہ جو دوبارہ جنم لیتا پہلا ذخیرہ اس کے گیان اور معرفت کا ضائع نہ ہوتا۔لیکن ظاہر ہے کہ ہر ایک بچہ جو پیدا ہوتا ہے خالی کا خالی دنیا میں آجاتا ہے اور ایک آوارہ اور فضول خرچ انسان کی طرح تمام پہلا اندوختہ برباد کر کے مفلس نادار کی طرح منہ دکھاتا ہے۔اور گو ہزار مرتبہ اس نے وید مقدس کو پڑھا ہو ایک ورق بھی وید کا یاد نہیں رہتا۔پس اس 137