بنیادی مسائل کے جوابات — Page 135
تناسخ سوال: آسٹریا کی ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ مختلف ثقافتوں کے لوگوں، مسلمان علماء، بعض اسلامی فرقوں نیز کئی دوسرے مذاہب نے تناسخ کے بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ عدل قائم کرنے کی غرض سے انسان کو دوبارہ دنیا میں لاتا ہے، تاکہ وہ مختلف تجارب جیسے غربت و امارت اور بیماری و صحت وغیرہ سے گزر سکے۔کیونکہ یہ عدل نہیں ہے کہ انسان کی روح صرف ایک ہی تجربہ سے گزرے۔اس بارہ میں جماعت احمدیہ کا موقف کیا ہے اور کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور کسی خلیفہ نے اس بارہ میں کچھ فرمایا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 06 ستمبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: تناسخ کا عقیدہ دراصل آخرت کی زندگی جو کہ دائمی زندگی ہے اس کو نہ سمجھنے اور نہ ماننے ، نیز خدا تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات خصوصاً صفت خالقیت، مالکیت اور اللہ تعالیٰ کے رحم سے متعلق مختلف عادات از قسم اس کا کرم، عفو، در گزر اور رحم وغیرہ سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔کیونکہ تناسخ کے عقیدہ کی رُو سے خدا تعالیٰ مجبور ہے کہ وہ کسی انسان کو ہمیشہ کے لئے نجات دے۔وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اگر ایک شخص اپنی آوارگی اور بد چلنی کے زمانہ سے تائب ہو کر اپنے اسی پہلے جنم میں نجات پانا چاہے تو اُس کو اس کی توبہ اور پاک تبدیلی کی وجہ سے نجات عنایت کر سکے بلکہ اُس کے لئے تناسخ کے اصول کی رُو سے کسی دوسری جون میں پڑ کر دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے خواہ وہ انسانی بون کو چھوڑ کر کتا بنے یا بندر بنے یا سور بنے۔اسی طرح اس باطل عقیدہ کی رو سے کسی انسان کا پاکیزگی کی راہوں پر چلنا بھی ناممکن ہے، کیونکہ اس عقیدہ کو ماننے کے نتیجہ میں کیا معلوم کہ دوبارہ ہونے والے تناسخی جنم میں جس عورت سے اس کی شادی ہوئی ہے، وہ پہلے جنم میں اس کی ماں یا بہن یا دادی ہو۔علاوہ ازیں اس عقیدہ کے اور بھی کئی لغو اور بیہودہ پہلو ہیں۔ا سید نا حضرت اقد سمسیح موعود علیہ السلام نے تناسخ کے غیر اسلامی اور خدا تعالیٰ کی ذات وصفات 135