بنیادی مسائل کے جوابات — Page 125
کی علمی اور جماعتی کتب کے مطالعہ پر گہری نظر ہونی چاہیئے، اسے سوچنے اور غور کر کے نئے نئے علمی نکات نکالنے کی عادت ہونی چاہیئے۔باقی جہاں تک مذکورہ بالا آیت میں بیان عورتوں سے متعلق سوال ہے تو اس سے مراد وہ عور تیں ہیں جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جبکہ دشمنان اسلام مسلمانوں کو طرح طرح کے ظلموں کا نشانہ بناتے تھے اور اگر کسی غریب مظلوم مسلمان کی عورت ان کے ہاتھ آجاتی تو وہ اسے لونڈی کے طور پر اپنی عورتوں میں داخل کر لیتے تھے۔چنانچہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوري: 41) کی قرآنی تعلیم کے مطابق دشمن اسلام کی ایسی عورتیں جو اسلام پر حملہ کرنے والے لشکر کے ساتھ ان کی مدد کے لئے آتی تھیں اور اُس زمانہ کے رواج کے مطابق جنگ میں بطور لونڈی کے قید کر لی جاتی تھیں۔اور پھر دشمن کی یہ عورتیں تاوان کی ادائیگی یا مکاتبت کے طریق کو اختیار کر کے جب آزادی بھی حاصل نہیں کرتی تھیں تو چونکہ اس زمانہ میں ایسے جنگی قیدیوں کو رکھنے کے لئے کوئی شاہی جیل خانے وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔اس لئے انہیں مجاہدین لشکر میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔اور یہ مجاہدین جب اپنے حصہ میں آنے والی ایسی لونڈیوں کی جہاں رہائش، خوراک اور لباس وغیرہ کی ضروریات پورا کرتے تھے تو بدلے میں اس زمانہ کے دستور کے مطابق ان مجاہدین کو ان عورتوں سے فائدہ اٹھانے کا بھی پورا پورا حق ہو تا تھا جس میں ان کے ساتھ جسمانی تعلق استوار کرنا بھی شامل تھا۔پس اس آیت میں دشمن کی اسی قسم کی عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگر وہ مذکورہ بالا حالات میں مسلمانوں کے قبضہ میں آتی ہیں تو قطع نظر اس کے کہ وہ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ لونڈی کی حیثیت میں ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی اجازت ہے۔یہاں پر میں یہ بھی واضح کر دوں کہ قرآن کریم ، احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ ا کے ارشادات کی روشنی میں میرا موقف ہے کہ ایسی عورتوں سے ایک قسم کے نکاح کے بعد ہی ازدواجی تعلقات قائم ہو سکتے تھے۔لیکن اس نکاح کے لئے اس لونڈی کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی تھی۔اور نہ ہی اس نکاح کے لئے اسلامی دستور کے مطابق ولی کی رضامندی ضروری ہوتی تھی، بلکہ جس طرح بہت سے قبائل اور معاشروں میں یہ طریق رائج رہا اور اب بھی بعض ممالک میں یہ طریق موجود ہے کہ معاشرہ میں صرف یہ بتا دیا جاتا ہے کہ ہم میاں بیوی ہیں اور 125 السلام