بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 124

سوال: ایک مربی صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ قرآن کریم کی آیت وَ الْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ میں کون سی عورتیں مراد ہیں اور کیا ان کے خاوندوں کے ہوتے ہوئے بھی ان سے شادی ہو سکتی ہے ، یا یہ آیت مخصوص زمانہ کے لئے تھی اور کیا اب یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 22 جولائی 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل اصولی ہدایات سے نوازا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آپ مرتی بھی ہیں اور آپ کو یہ بھی علم نہیں کہ قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہو سکتی۔آپ کے سوال سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا اور نہ ہی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی کتب کا مطالعہ کیا ہے۔اور نہ ہی آپ خلفاء احمدیت کے خطبات و خطابات سنتے ہیں، بلکہ آپ کو تو جماعت کے بنیادی عقائد کا بھی علم نہیں جو آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا قرآن کریم کی یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے ؟ کیونکہ جماعت احمدیہ کا بنیادی عقیدہ ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا ایسا کلام ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا تعالیٰ نے لے رکھی ہے اور اس کی بسم اللہ کی ”ب“ سے والناس کی ”س“ تک ساری عبارت خدا تعالیٰ کے اذن کے تحت محفوظ اور غیر مبدل ہے اور اس کا ایک نقطہ بلکہ ایک شعشہ بھی قابل منسوخ نہیں اور جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن کریم قابل عمل تھا، اب بھی اسی طرح قابل عمل ہے اور انشاء اللہ قیامت تک اسی طرح قابل عمل رہے گا۔ہاں یہ بات درست ہے کہ قرآن کریم کے بعض احکام بعض مخصوص حالات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔آنحضور الم کے زمانہ میں جب وہ حالات تھے تو یہ احکام ان پر لاگو ہوتے تھے، آئندہ کسی زمانہ میں اگر ویسے ہی حالات دوبارہ پیدا ہوتے ہیں تو پھر ان احکامات کا ان حالات پر نفاذ ہو گا۔اس آیت میں بیان لونڈیوں کے متعلق احکامات بھی اسی قسم کے حالات کے ساتھ مخصوص ہیں۔ایک مربی کا صرف یہ کام نہیں کہ وہ صرف سوال کر کے اپنے مسائل حل کر لے۔یا کوئی بات معلوم کرنے کے لئے صرف Google Search کا سہارا لے۔بلکہ ایک مربی کو خود تحقیق کر کے اپنے علم میں اضافہ کرنے کی عادت ہونی چاہیئے اور اس کا علم پختہ اور گہر اہونا چاہیئے۔اس 124