بنیادی مسائل کے جوابات — Page 123
ہے۔قرآن کریم اپنی تفسیر آپ کرتا ہے۔قرآن کریم میں تکرار نہیں ہے۔قرآن کریم میں محض قصے نہیں ہیں۔قرآن کریم کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کی سنت میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔عربی زبان کے الفاظ مترادف نہیں ہوتے بلکہ اس کے حروف بھی اپنے اندر مطالب رکھتے ہیں۔قرآن کریم کی سورتیں بمنزلہ اعضاء انسانی ہیں جو ایک دوسرے سے مل کر اور ایک دوسرے کے مقابل پر اپنے کمال ظاہر کرتی ہیں۔(ملخص از حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کارنامے، انوار العلوم جلد 10 صفحہ 157 تا 159) یہ زریں اصول مد نظر رکھ کر آپ اگر سمجھتی ہیں کہ آپ قرآن کریم کی تشریح کا حق ادا کر سکتی ہیں تو ضرور لکھا کریں اور لکھ کر بے شک مجھے بھیج دیا کریں۔اور ویسے بھی قرآن کریم کسی ایک طبقہ کی ملکیت اور میراث نہیں ہے بلکہ یہ تمام بنی نوع انسان کے لئے ہدایت اور رہنمائی کا سر چشمہ ہے اور ہر طبقہ اور ہر درجہ کا انسان اپنی اپنی استعداد اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس سے فیضیاب ہو سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے والے علوم قرآن کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پانچواں اصولی علم جو آپ کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ قرآن ذوالمعانی ہے اس کے کئی بطون ہیں۔اس کو جس عقل اور جس فہم کے آدمی پڑھیں اس میں ان کی سمجھ اور ان کی استعداد کے مطابق سچی تعلیم موجود ہے گویا الفاظ ایک ہیں لیکن مطالب متعدد ہیں اگر معمولی عقل کا آدمی پڑھے تو وہ اس میں ایسی موٹی موٹی تعلیم دیکھے گا جس کا ماننا اور سمجھنا اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہ ہو گا اور اگر متوسط درجہ کے علم کا آدمی اس کو پڑھے گا تو وہ اپنے علم کے مطابق اس میں مضمون پائے گا اور اگر اعلیٰ درجہ کے علم کا آدمی اس کو پڑھے گا تو وہ اپنے علم کے مطابق اس میں علم پائے گا۔غرض یہ نہ ہو گا کہ کم علم لوگ اس کتاب کا سمجھنا اپنی عقل سے بالا پائیں یا اعلیٰ درجہ کے علم کے لوگ اس کو ایک سادہ کتاب پائیں اور اس میں اپنی دلچسپی اور علمی ترقی کا سامان نہ دیکھیں۔کاسامان نرود ( دعوۃ الامیر ، انوار العلوم جلد 7 صفحہ 513) (قسط نمبر 34، الفضل انٹر نیشنل 20 مئی 2022ء صفحہ 11) 123