بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 122

سوال: ایک خاتون سورۃ النور کی ایک آیت کی خود تشریح کر کے اسے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کر کے اس بارہ میں رہنمائی چاہی نیز پوچھا کہ کیا ایسا کرنے کی اجازت ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 مارچ 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی: جواب: آپ نے اس آیت کی جو تشریح کی ہے، اچھی ہے۔اور آپ کی تشریح میں بیان تقریباً ساری باتیں جماعتی لٹریچر میں بھی موجود ہیں۔ایک آدھ بات آپ نے زائد بیان کی ہے۔مثلاً یہ کہ زیتون کا تیل 550 ڈگری پر جلتا ہے اس لئے اس کے دیئے کے گرنے سے آگ نہیں بھڑ کتی۔شاید یہ بھی جماعتی لٹریچر میں کسی جگہ بیان ہوئی ہے لیکن میری نظر سے نہیں گزری۔باقی جہاں تک قرآن کریم کی تفسیر کرنے کی بات ہے تو اس کے لئے بنیادی طور پر قرآن کریم میں بیان تعلیمات، آنحضور ﷺ کی سنت، احادیث نبویہ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا وسیع اور گہر اعلم ہونا ضروری ہے۔اس کے بعد انسان قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے کا اہل ہو سکتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفسیر القرآن کے جو اصول بیان فرمائے ہیں، انہیں مختصر آمیں آپ کے استفادہ کے لئے یہاں درج کر رہا ہوں۔حضور نے ایک رؤیا کی بناء پر قرآن کریم کی تفسیر کے تین اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا جب تم میں کسی آیت کے مفہوم کے متعلق اختلاف پیدا ہو جائے تو تم قرآن کریم کی دوسری آیتوں غور کیا کرو کہ وہ کن معنوں کی تائید کرتی ہیں۔اگر آیات نہ ملیں تو احادیث نبوی میں اس کا مفہوم تلاش کرو۔اور اگر احادیث نبوی سے بھی تمہیں اس کے معنی نہ ملیں تو کسی ملہم کے کلام اور اس کی تشریحات کی طرف دیکھو۔کیونکہ خدا تعالیٰ سے تازہ روشنی اور الہام پانے کی وجہ سے اس کا ذہن منور ہو جاتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 28، خطبہ ارشاد فرمودہ مؤرخہ 21 نومبر 1947ء) حضور اپنی تصنیف ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کارنامے “ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ اصول تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے۔قرآن کریم پر غور کرے اور اس بات کو مد نظر رکھے کہ اس کا ہر ایک لفظ ترتیب سے رکھا گیا ہے۔اس کا کوئی لفظ بے مقصد نہیں ہے۔اس کا کوئی لفظ بے معنی نہیں ہے۔قرآن کریم اپنے ہر دعویٰ کی دلیل خود بیان کرتا 122