بنیادی مسائل کے جوابات — Page 118
آپ نے اپنے خط میں جن آیات کا ذکر کیا ہے ، حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سب نے اپنے اپنے خداداد علم کے نتیجہ میں ان آیات کی تفسیر بیان فرمائی ہے۔جس کے مطابق ان آیات سے معاشرہ میں پائی جانے والی مختلف قسم کی برائیوں کا استنباط کر کے ان کی شناعت بیان کی اور اپنے متبعین کو ان برائیوں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان آیات سے ایسے نا پسندیدہ افعال اور بُرے اخلاق کی باتیں مراد لی ہیں، جن کا تعلق جھگڑا فساد جیسے فتیح امور سے ہے۔اور آج سے ستر اسی سال قبل ایسے مرد و خواتین جو اپنے گرد و نواح میں بلا وجہ جھگڑ ا فساد کی فضاء پیدا کرتے تھے ، اخلاقاً بہت بُرے سمجھے جاتے تھے اور اُس زمانہ میں مرددوں کی مردوں اور عورتوں کی عورتوں کے ساتھ جنسی بے راہ روی معاشرہ میں عام نہیں ہوئی تھی۔اس لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اُس زمانہ میں ان آیات میں بیان ناپسندیدہ افعال کی وہی تشریح فرمائی جو اُس زمانہ میں عام طور پر شناعت کے دائرہ میں داخل تھی۔اور اب اس نئے زمانہ میں مرد و خواتین کی اس قسم کی جنسی بے راہ روی جسے Gay Movement کہا جاتا ہے، معاشرہ میں عام ہو رہی ہے، اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے اس زمانہ کے حالات کے مطابق قرآن کریم کی ان آیات کی یہ تشریح فرمائی ہے اور ان آیات میں بیان بُرائی سے موجودہ زمانہ میں پھیلنے والی جنسی بے راہ روی مراد لی ہے۔قرآن فہمی کے معاملہ میں اس قسم کے اختلاف میں کوئی حرج نہیں بلکہ حضور ام نے اپنی امت میں پائے جانے والے اس قسم کے علمی اختلاف کو رحمت قرار دیا ہے۔کیونکہ اس کے نتیجہ میں قرآن کریم سے مختلف قسم کے استدلال کی نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔(قسط نمبر 25، الفضل انٹر نیشنل 24 دسمبر 2021ء صفحہ 11) 118