بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 117

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ سورۃ النساء کی آیت 16 اور 17 کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے دو مختلف تفاسیر بیان فرمائی ہیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 19 جولائی 2020ء میں اس بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی۔حضور نے فرمایا: جواب قرآن کریم کسی ایک زمانہ یا ایک قوم کے لئے نازل نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک تمام دنیا کی رہنمائی کے لئے نازل فرمایا ہے اور ہر زمانہ میں وہ اپنے برگزیدہ لوگوں کو اس زمانہ کے حالات کے مطابق اس سے مسائل کے استنباط کا علم بھی عطا فرماتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَ مَا نُنَزِّلُةٌ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (سورة الحجر:22) یعنی ہمارے پاس ہر چیز کے (غیر محدود) خزانے ہیں۔لیکن ہم اسے (ہر زمانہ میں اس کی ضرورت کے مطابق ایک معین اندازہ کے مطابق نازل کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفی ام سے کئے گئے وعدہ کے مطابق آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس زمانہ میں دین محمدی کی تجدید اور دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا اور اسی قرآنی بشارت کے مطابق آپ کو قرآنی علوم اور اس کے روحانی معارف سے وافر حصہ عطا فرمایا۔اور پھر آپ کے وسیلہ اور برکت سے آپ کے بعد جاری ہونے والی خلافت کی مسند پر متمکن ہونے والے ہر فرد کو علوم قرآنی سے نوازا۔ان وجودوں نے اپنے اپنے دور میں، اُس زمانہ کے حالات کے مطابق خدا تعالیٰ سے علم پا کر اپنی سمجھ کے مطابق قرآن کریم کے معارف دنیا کے لئے بیان فرمائے۔آنحضور لم نے قرآن کریم کے مختلف متن اور مختلف بطون ہونے کی جو بشارت دی ہے، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ سے علم لدنی کا فیض پانے والے لوگ مختلف زمانوں میں اس سے ایسے مسائل اور علوم کا استنباط کرتے رہیں گے جس کے نتیجہ میں یہ کتاب ہر زمانہ میں ترو تازہ رہے گی۔117