بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 119

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں سورۃ الحاقہ کی ایک آیت کے لفظ ”اُذُن“ کے بارہ میں تحریر کر کے کہ اس سے مراد ریکارڈنگ مشین ہے کیونکہ کان تو کسی بات کو محفوظ نہیں رکھتے بلکہ دل و دماغ محفوظ رکھتے ہیں، رہنمائی چاہی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 جنوری 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی: جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر صغیر میں سورۃ الحاقہ کی اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے تا کہ اس (واقعہ) کو تمہارے لئے ایک نشان قرار دیں اور سننے والے کان سنیں (اور دل اسے یاد رکھیں) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے اس تشریحی ترجمہ میں اس بات کو واضح فرما دیا ہے کہ کانوں کا کام صرف سننا ہے یاد رکھنے کا کام یا دل کرتا ہے یا دماغ کرتا ہے۔چنانچہ سورۃ البقرۃ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ایک جگہ حضور مکان اور آنکھ کے فنکشن کی وضاحت میں ایک نہایت لطیف نکتہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جب ہم کوئی آواز سنتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ یہ آواز باہر سے ہو کر آئی ہے۔کیونکہ کان کا پر دوہ قدرتی طور پر اس طرح بنایا گیا ہے کہ ہوا کا زور کان کے پردہ پر پڑتا ہے تو اس سے ایک حرکت پیدا ہوتی ہے۔ارتعاش کی لہریں یعنی وائی بریشنز ( VIBRATIONS ) پیدا ہوتی ہیں اور یہی وائی بریشنز دماغ میں جاتی ہیں اور دماغ ان کو الفاظ میں بدل ڈالتا ہے۔یہی وائی بریشن ہیں جو ریڈیو کے والوز میں پڑتی ہیں اور ریڈیو ان کو الفاظ میں بدل ڈالتا ہے۔انسانی بناوٹ میں ریڈیو کان ہے اور اعصاب دماغی والوز ہیں۔ان کے ذریعہ جو حرکات دماغ میں منتقل ہوتی ہیں وہ وہاں سے آواز بن کر سنائی دیتی ہیں۔۔۔اور جو کچھ تم دیکھتے ہو وہ بھی حرکات ہیں، جن کو آنکھیں شکل میں تبدیل کر ڈالتی ہیں۔جو چیز تمہارے سامنے گڑی ہوتی ہے وہ تصویر نہیں ہوتی بلکہ وہ فیچرز 119