بنیادی مسائل کے جوابات — Page 72
بسْمِ اللہ سورۃ الفاتحہ کا حصہ سوال: لندن سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ جب بسم اللہ سورۃ الفاتحہ کا حصہ ہے تو ہم نماز میں الحمدُ للہ سے قراءت کیوں شروع کرتے ہیں، بسم اللہ سے کیوں نہیں شروع کرتے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 07 جنوری 2022ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: احادیث میں یہ بات بڑی وضاحت سے موجود ہے کہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم با قاعدہ ایک آیت ہے اور قرآن کریم کی ہر اس سورۃ کا حصہ ہے جس کے شروع میں یہ نازل ہوئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر میں اس مضمون کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔باقی جہاں تک نماز میں سورۃ الفاتحہ یا کسی دوسری سورۃ سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی بات ہے تو نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ یا کسی بھی دوسری سورۃ سے پہلے ہم بسم اللہ پڑھتے ہیں۔ہاں یہ بات درست ہے کہ اسے اونچی آواز سے نہیں پڑھا جاتا بلکہ آہستہ آواز سے پڑھا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ احادیث کی مستند کتب سے ایسا ہی ثابت ہے کہ حضور اللیلم نمازوں میں بِسْمِ اللہ کو سورۃ الفاتحہ اور دوسری سورتوں سے پہلے آہستہ آواز میں ہی پڑھتے تھے۔چنانچہ حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ لی ، حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ جب بھی نماز شروع کرتے تو الْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن سے شروع کرتے۔(بخاري) کتاب الاذان باب ما يقول بعد التكبير) اسی طرح ایک اور روایت میں حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت الام ، حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے پیچھے نمازیں پڑھیں۔میں نے کبھی بھی ان سے بلند آواز سے (سورۃ سے پہلے ) بِسْمِ اللہ نہیں سنی۔(سنن نسائی کتاب الافتتاح باب ترك الجهر بسم الله) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی یہی طریق تھا کہ بسم اللہ جہراً نہیں پڑھتے تھے۔72