بنیادی مسائل کے جوابات — Page 73
خلفائے احمدیت نے بھی اسی طریق کو جاری فرمایا اور بسم اللہ جہر آ نہیں پڑھی۔جماعتی پجہتی کا تقاضا یہی ہے کہ نماز با جماعت میں امام الصلوۃ وہی طریق اختیار کرے جو آنحضرت اللام ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء سے ثابت ہے۔ہاں یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی نماز میں بسم اللہ جہر آ پڑھے تو ہم اسے غلط نہیں سمجھتے کیونکہ بعض احادیث میں آتا ہے کہ حضور ام نے اسے جہر آ بھی پڑھا ہے۔اسی لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: بشم اللہ جہراً اور آہستہ پڑھنا ہر دو طرح جائز ہے۔ہمارے حضرت مولوی عبد الكريم صاحب (اللَّهُمَّ اغْفِرْهُ وَارْحَمْهُ) جو شیلی طبیعت رکھتے تھے ، بسم اللہ جہر اپڑھا کرتے تھے۔حضرت مرزا صاحب جہراً نہ پڑھتے تھے۔ایسا ہی میں بھی آہستہ پڑھتا ہوں۔صحابہ میں ہر دو قسم کے گروہ ہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی طرح کوئی پڑھے اس پر جھگڑا نہ کرو۔ایسا ہی آمین کا معاملہ ہے۔ہر دو طرح جائز ہے۔بعض جگہ یہود اور عیسائیوں کو مسلمانوں کا آمین پڑھنا بر الگتا تھا تو صحابہ خوب اونچی پڑھتے تھے۔مجھے ہر دو طرح مزہ آتا ہے، کوئی اونچا پڑھے یا آہستہ پڑھے۔“ (بدر نمبر 32 جلد 11، 23 مئی 1912ء صفحہ 3) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی ایک عمر گزار کر احمدی ہوئے تھے اور احمدیت سے قبل وہ بسم اللہ جہر آہی پڑھا کرتے تھے اور چونکہ یہ طریق بھی آنحضور ام سے ثابت ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں اس سے منع نہیں فرمایا۔لیکن جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا ارشاد سے نیز بہت سے اور کبار صحابہ جن میں حضرت میاں عبد اللہ صاحب سنوری ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب شامل ہیں، ان کی روایات سے ثابت ہو تا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا عمل وہی تھا جسے آپ کے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ایم نے اکثر اختیار فرمایا۔73