بنیادی مسائل کے جوابات — Page 71
بچوں کو Adopt کرنا سوال: یو کے سے ایک خاتون نے بچوں کو Adopt کرنے نیز ان بچوں اور ان کے دیگر عزیز و اقارب کے حقوق و فرائض کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے رہنمائی چاہی ہے۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 ستمبر 2021ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اسلامی تعلیمات کی رُو سے بچوں کو Adopt کرنے کی اجازت تو ہے لیکن اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خاص طور پر یہ حکم بھی دیا ہے کہ ایسے بچوں کو ان کے حقیقی والدین ہی کے ناموں کے ساتھ یاد کیا جائے۔(سورۃ الاحزاب: 6،5) اس لئے ایسے بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی ان کے Adopt کئے جانے کے بارہ میں اور ان کے حقیقی والدین کے متعلق بتا دینا چاہیے۔یہی صحیح اسلامی تعلیم ہے۔جہاں تک ایسے بچوں کے وراثت وغیرہ میں شرعی حق کا تعلق ہے تو وہ ان کے حقیقی والدین کے ساتھ ہی قائم رہتا ہے۔یعنی ان بچوں کے حقیقی والدین ان بچوں کے اور یہ بچے اپنے حقیقی والدین کے شرعی وارث ہوتے ہیں۔Adoption کی وجہ سے ان بچوں اور ان کے حقیقی والدین کے باہمی وراثتی شرعی حقوق پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔البتہ ایسے بچوں کو Adopt کرنے اور ان کی پرورش کرنے والے والدین بھی اگر کچھ ان بچوں کو دینا چاہیں تو اپنی زندگی میں ہبہ کے ذریعہ اور زندگی کے بعد وصیت کی صورت میں انہیں دے سکتے ہیں۔لیکن وصیت انسان اپنے گل ترکہ کے زیادہ سے زیادہ تیسرے حصہ تک ہی کر سکتا ہے۔(صحيح بخاري كتاب الوصايا باب أن يَتْرُكَ وَرَثَتَهُ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَكَفَّفُوا النَّاسَ) (قسط نمبر 45، الفضل انٹر نیشنل 16 دسمبر 2022ء صفحہ 11) 71