بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 66

انگوٹھی سوال: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ سوئٹزرلینڈ کی نیشنل مجلس عاملہ کی مؤرخہ 07 نومبر 2020ء کو ہونے والی Virtual ملاقات میں ایک ممبر عاملہ نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تین انگوٹھیاں بنوائی تھیں، دو انگوٹھیاں ہم نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دست مبارک میں دیکھی ہیں، تیسری انگوٹھی کس کے پاس ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کا جواب عطا فرماتے ہوئے فرمایا: جواب: أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی حضرت اناں جان نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو دے دی تھی اور دوسری انگوٹھی جس پر غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِي وَقُدْرَتِي کا الهام درج تھا، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو دے دی تھی اور ”مولی بس“ والی انگوٹھی حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو دیدی تھی۔أليس الله والی انگوٹھی جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو دی تھی، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد یہ انگوٹھی جو بھی خلیفہ بنے گا، اس کو ملے گی اور بائے ذاتی ہونے کے خلافت کو منتقل ہو جائے گی۔لیکن جو دوسری دو انگوٹھیاں تھیں وہ دونوں بھائیوں نے اپنے پاس رکھی رکھیں۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی انگو ٹھی جو تھی ان کی وفات کے بعد میرے والد صاحب کے پاس آئی۔اس کے بعد میری والدہ نے ان کی وفات کے بعد مجھے دے دی۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے جب خلافت کا منصب دیا تو میں نے وہ انگوٹھی پہنی بھی شروع کر دی۔تیسری انگوٹھی جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے پاس تھی، وہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات کے بعد حضرت مرزا مظفر احمد صاحب کو منتقل ہو گئی تھی۔حضرت مرزا مظفر احمد صاحب کے کوئی اولاد نہیں تھی تو انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی بیٹی امتہ الجمیل صاحبہ اور محترم ناصر احمد سیال صاحب ابن حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب کے بیٹے کو لے پالک بنایا تھا، اور وہ ان کے ساتھ رہا، ان کے گھر میں پلا بڑھا، تو اس کے بعد انہوں نے وہ انگوٹھی اس کو دے دی وہ آجکل امریکہ میں رہتا ہے۔(قسط نمبر 6، الفضل انٹر نیشنل 15 جنوری 2021ء صفحہ 11) 66